میرے شوہر دماغی مریض ہیں، اس نے مجھے 27 روزے کو پاگل پن کی کیفیت میں تین بار طلاق دے دی ہے، یہ ابھی آغا خان کے پاگل خانے میں داخل ہیں ، اس کی حالت ٹھیک نہیں ہے، ابھی تک وہاں داخل ہیں، برائے مہربانی مجھے بتادیجئے کہ مجھے طلاق ہوئی ہے کہ نہیں ؟ کیونکہ وہ ابھی تک بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں۔
سائلہ کو چاہئیے کہ شوہر کو کسی معتبر دار الافتاء کے مفتی صاحبان کے سامنے پیش کرے وہ حضرات سائلہ کے شوہر سے طلاق کے وقت کی حالت کا اچھی طرح جائزہ لیں پھر اگر وہ یہ فیصلہ دیں کہ سائلہ کا شوہر اس وقت مجنون تھا اور جنون کی حالت میں طلاق کے الفاظ کہے ہیں تو مجنون کی طلاق کا شرعاًاعتبار نہیں ورنہ تینوں طلاقیں واقع ہو کہ حرمتِ مغلظہ ثابت ہو گی ۔
کمافی الھندیة: ولا يقع طلاق الصبي وإن كان يعقل والمجنون والنائم والمبرسم والمغمى عليه والمدهوش هكذا في فتح القدير. وكذلك المعتوه لا يقع طلاقه أيضا وهذا إذا كان في حالة العته أما في حالة الإفاقة فالصحيح أنه واقع هكذا في الجوهرة النيرة(1/353)-
وفی ردالمحتار: ويؤيده ما قلنا قول بعضهم: العاقل من يستقيم كلامه وأفعاله إلا نادرا، والمجنون ضده (الی قوله) وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل اھ(3/242)-