اگر شوہر بغیر نیت کہ اپنی بیوی کو سمجھانے کے لیے، سکھانے کے لیے طلاق کہ دے تین مرتبہ ،تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟
اپنی بیوی کو سمجھانے ، ڈرانے وغیرہ کی غرض سے طلاق دینے سے بھی شرعا طلاق واقع ہو جاتی ہے، البتہ بیوی کو طلاق کے مسائل سمجھاتے ہوئے اگر طلاق کے الفاظ کہے اور اپنی بیوی کو طلاق دینے کا قصد وارادہ نہ ہو ،تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
كما في الدر: لما مر أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح، وحققه في النهر، احترازا عما لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته الخ (3/ 251)