آج کل چونکہ ایک تولہ سونے کی قیمت بہرحال ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت سے زیادہ بنتی ہے، تو کیا ایک تولہ سونا جس کے پاس ہو اس پر بھی قربانی واجب ہوگی؟ عید الاضحیٰ کے دن قربانی کے گوشت سے کھانے کی شروعات کرنا مستحب ہے لیکن ہمارے ہاں تو اکثر بڑے جانور میں سات آدمی تک شریک ہوتے ہیں اور گوشت یا کلیجی آتی ہے تو ۱۱، ۱۲ بج چکے ہوتے ہیں، ایسی صورت میں کیا کرنا چاہئے؟
کسی کے پاس اگر فقط ایک تولہ سونا ہو اس کے علاوہ چاندی، نقدی وغیرہ موجود نہ ہو تو صرف ایک تولہ سونا موجود ہونے کی وجہ سے اس پر قربانی واجب نہ ہوگی جبکہ قربانی والے دن قربانی کے گوشت سے شروعات کرنا مستحب ہے کوئی فرض واجب عمل نہیں اس لئے اگر قربانی کے گوشت میں دیر ہو تو دیگر اشیاء سے بھی شروعات کرسکتے ہیں۔
کما فی الہندیۃ: واما شرائط الوجوب منہا الیسار وہو ما یتعلق بہ وجوب صدقۃ الفطر الخ (ج۵، ص۲۹۲)۔
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ والیسار الخ) بان ملک مائتی درہم أو عرضا یساویہا غیر مسکنہ۔ الخ (ج۶، ص۳۱۲)