السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعد عرض خدمت ہے کہ برطانیہ میں قربانی خود نہیں کی جاسکتی بلکہ مخصوص سلاٹر ہاؤسز میں مذبح خانوں میں کی جاتی ہے۔ لوگ اپنی قربانی کی رقم دوکان والوں کو دیتے ہیں اور دوکان والے مذبح خانوں والوں کو دیدیتے ہیں۔ وہاں پر قربانی کے جانوروں کی ایک کھیپ سو دو سو کو ایک ساتھ لاکر یا ایک دوکاندار کے آڈر کے جانوروں کو بغیر قربانی کرنے والے کے لئے مخصوص کرنے کے ذبح کیا جاتا ہے۔ جانور کو صاف کرنے کے بعد جس آدمی کی قربانی ہو اس کی کٹائی کے بعد اس کا نام لکھ دیا جاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس طرح جانور کو بغیر نام اور مخصوص کرکے قربانی کرنا جائز ہے ؟ اور یہ قربانی ہوگی یا کہ نہیں ؟
برائے کرم جلد جواب دیکر مشکور وممنون فرمائیں تاکہ مسلمانوں کی قربانی صحیح طریقے اے ہوسکے۔
اسلام علی شاہ مقیم برطانیہ
واضح ہو کہ لوگوں کی طرف سے اجتماعی قربانی کا اہتمام کرنے والے ادارے یا افراد بحیثیتِ مجموعی حصہ داروں کی طرف سے وکیل ہوتے ہیں ،اور ان پر اس معاملہ میں وکالت ہی کے احکام لاگو ہوں گے ،لہذا ان کو چایئے کہ جانور خریدتے وقت یا خریداری کے فوراً بعد یہ متعین کرلیں کہ یہ جانور فلاں فلاں حصہ داروں میں مشترک ہے ،تاکہ بعد میں اگر جانور معیوب ہوجائے یا مر جائے تو یہ معلوم ہو کہ یہ فلاں حصہ داروں کا جانور ہے، لہذا ایسی صورت میں صرف انہی افراد پر دوسرا جانور خرید کر قربانی کرنا لازم ہوگا،لہذا صورتِ مسؤلہ میں" سلاٹر ہاؤس" والوں کو چایئے کہ جانور وغیرہ کو خریدتے ہی متعین کر لیا کریں ،لیکن اگر جانور خریدتے وقت یا ذبح کرتے وقت شرکاء کو متعین کئے بغیر محض قربانی کے جانور ذبح کر دیئے تو ایسی صورت میں تمام شرکاء کی قربانی درست ہوگئی ،تاہم آئندہ کیلئے جانور خریدتے وقت یا خریداری کے فوراً بعد ذبح سے قبل تعیین کا لازمی اہتمام کرنا چایئے ،تاکہ بعد میں کسی قسم کا نزاع اور بد مزگی پیدا نہ ہو ۔
کما فی الفتاوی التاتارخانیۃ: روی بشر بن الولید عن ابی یوسف فی رجل لہ تسعۃ من العیال وھو العاشر فضحیٰ بعشر من الغنم عن نفسہ و عن عیالہ ،و لا ینوی شاۃ بعینھا لکن ینوی العشرۃ عنھم و عنہ جاز فی الاستحسان ،و ھو قول ابی حنیفۃ ۔رحمہ اللہ تعالیٰ (17/437)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: وفي الأضاحي للزعفراني اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم ولم يسم لكل واحد منهم شاة بعينها فضحوا بها كذلك فالقياس أن لا يجوز، وفي الاستحسان يجوز، فقوله اشترى سبعة نفر سبع شياه بينهم يحتمل شراء كل شاة بينهم
ويحتمل شراء شياه على أن يكون لكل واحد شاة ولكن لا بعينها، فإن كان المراد هو الثاني فما ذكر في الجواب باتفاق الروايات؛ لأن كل واحد منهم يصير مضحيا شاة كاملة اھ (5/306)۔