اگر کسی عورت کے مکمل ہوش و حواس میں اسکا شوہر ایک ہی نشست میں اسکو کئی دفعہ طلاق کے الفاظ ادا کرے. اور بعد میں اسکا شوہر علیحد گی کے خوف سے اپنے الفاظ سے حلفاً انکاری ہوجائے کیونکہ اس معاملے کا کوئی گواہ بھی نہ تھا تو شریعت کا کیا حکم ہے اس عورت کے لئے ؟ کیا وہ اپنی عزت کی حفاظت کے لئے اس شخص سے علیحدگی اختیار کرے یا اپنی سماعت کو جھٹلا کر اس شخص کے ساتھ رہتی رہے ؟
صورتِ مسئولہ میں جب عورت کے پاس طلاق پر گواہ نہیں ہے اور مرد بھی طلاق کے الفاظ سے حلفاً انکار کرتا ہے اور عورت کویقین کے ساتھ معلوم ہے کہ اس کے شوہر نے اسے ایک ہی نشست میں متعدد مرتبہ طلاق کے الفاظ ادا کیے ہیں اور عورت اپنے دعویٰ پر حلفیہ بیان اور آخرت کی جوابد ہی کے لیے آمادہ بھی ہے تو " المرأۃ کالقاضی " کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے چاہیئے کہ وہ اپنے آپ کو مطلقۂ ثلاثہ سمجھے اور شوہر کو اپنے اوپر قطعاً قدرت نہ دے ، البتہ اگر یہ معاملہ قاضی (مسلمان جج) کی عدالت میں چلا جائے اور عورت اپنے دعویٰ پر گواہ پیش نہ کر سکے اور قاضی مدعا علیہ یعنی خاوند کی قسم پر اس کے حق میں فیصلہ دیکر اسے خاوند کے ساتھ بھیج دے تو اس صورت میں عورت اگر چہ گنہگار نہ ہو گی ، لیکن جب اسے تین مرتبہ الفاظِ طلاق واضح طور پر سننا یاد ہوں تو حتی الامکان اسے حلالۂ شرعیہ سے قبل اپنے اوپر قدرت نہ دے ، بلکہ اس سے طلاق بالمال یا خلع کے ذریعے علیحدگی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
کمافی الدرالمختار: (سمعت من زوجها أنه طلقها ولا تقدر على منعه من نفسها) إلا بقتله (لها قتله) بدواء خوف القصاص، ولا تقتل نفسها. وقال الأوزجندي: ترفع الأمر للقاضي، فإن حلف و لا بينة فالإثم عليه اھ (3/420)۔
وفی ردالمحتار: وعلمت أن المرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا علمت منه ما ظاهره خلاف مدعاه. اهـ. (3/420)۔