کیا فرعون،ہامان اور قارون وغیرہ کے الفاظ کے ذریعہ سے کوئی عامل عمل کرتا ہے ، ان الفاظ پر جوتی وغیرہ مارتا ہے تو کیا ایسا کرنے والا دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے؟
اگر شخص مذکور کا یہ عمل فرعون، ہامان وغیرہ کیساتھ نفرت کے اظہار اور علاج کی غرض سے ہے تو اس غرض کے محمود ہونے میں شبہ نہیں مگر یہ اسماء چونکے حروف تہجی پر مشتمل ہیں اور ان حروف کی بھی ایک حرمت ہے، اس لیے اس کو چاہیے حروف کی حرمت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرز عمل سے احتراز کرے۔
كما في الهندية : اذا كتب اسم فرعون او كتب ابو جہل على غرض یکرہ ان يرموا اليه لأن لتلك الحروف حرمة كذا في السراجية (5/323)