السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ کیا زبردستی طلاق ہوجاتی ہے یعنی اگر کسی مرد سے اگر اس کے گھر والے طلاق دینے کا کہیں اور اگر اس کی بیوی احکامِ شرعیہ کی پابندی نہ کرتی ہو تو یہ جائز ہے یا کسی صورت بھی نہیں ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کو چاہیئے کہ وہ بلاوجہ اپنی بیوی کو طلاق نہ دے بلکہ وہ اپنی بیوی کو احکامِ شرعیہ کا پابند کرنے کی کوشش کرے ،تاہم پھر بھی اگر وہ احکامِ شرعیہ کی پابندی نہ کرے اور اس کی وجہ سے گھر کا ماحول وغیرہ خراب ہورہا ہو تو اس صورت میں طلاق دینے کی گنجائش ہے ۔
وفی الحدیث:عن ابن عمر عن النبی ﷺ قال ابغض الحلال الی اللہ عزوجل الطلاق اھ (بخاری /ج1/296)۔
وفی الدر المختار :(وإيقاعه مباح) عند العامة لإطلاق الآيات أكمل (وقيل) قائله الكمال (الأصح حظره) (أي منعه) (إلا لحاجة) كريبة وكبر،وقولھم الاصل فیه الحظر معناہ ان الشارع ترک ھذا الاصل فاباحه بل یستحب لو مؤذیة او تارکۃ صلوۃ اھ (3/227/22)