السلام علیکم !میری والدہ کا انتقال ہو گیا ہے کینسر کیوجہ سے، آپ سے یہ پوچھنا تھا کہ جو نمازیں انہوں نے بیماری کی حالت میں قضاء کی ہیں ،اُن کا کفارہ کیسے دیا جائےگا؟ آپ یہ بتا سکتے ہیں کہ ایک نماز کا کتنا فدیہ یا ہدیہ دینا ہوگا؟
مرحومہ نے اپنی فوت شدہ نمازوں کے فدیہ کے متعلق اگر وصیت کی ہو تو مرحومہ کے ورثاء پر ان کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ان کے ترکہ سے ادا کرنا واجب ہے، لیکن اگر مرحومہ نے اپنی نمازوں کے متعلق کوئی وصیت نہ کی ہو تو ورثاء پر ان کی فوت شدہ نمازوں کا فدیہ ادا کر نالازم نہیں، تاہم اگر کوئی وارث اپنی مرضی سے چند یا سب نمازوں کا فدیہ ادا کرنا چاہیں تو اس کا اسے اختیار ہے، جبکہ وتر سمیت ہر نماز کا فدیہ ایک صدقۃ الفطر (پونے دوسیر گندم یا اس کی قیمت )کے برابر ادا کر نالازم ہے۔
ففي رد المحتار: تحت قوله (قوله وعليه صلوات فائتة الخ) أى بأن كان يقدر على ادائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيماء بها وإلا فلا يلزمه (الی قوله) (قوله نصف صاع من بر) أى أو من دقيقه أو سويقه اھ (2/ 72)
وفي الفتاوى التاتارخانية: وفي الفتاوى الحجة: وإن لم يوص الورثة وتبرع بعض الورثة يجوز اھ (1/771)