کیا فرماتے علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ، موت کے وقت وصیت کی ،کہ میرے مال میں سے اتنا فلاں مسجد میں دے دینا ، جبکہ وہ مسجد بریلوی مسلک کی ہے اور ورثاء دیوبند مسلک کی مسجد میں دینا چاہتے ہیں ، آیا شریعتِ مطہرہ ، ورثاء کو یہ اختیار دیتی ہے کہ وہ دیوبند مسلک کی مسجد میں اتنی رقم خرچ کر دیں یا نہیں؟
مذکور مسجد کے متعلقین، اگر غالی بریلوی نہ ہوں ، تو بہتر یہ ہے کہ اسی مسجد میں رقم خرچ کی جائے۔
ففی الفقه الإسلامی و أدلته: فإن کانت الوصية فی ذاتھا مباحة شرعاً ، لکن الباعث علیہا محرم ، کالوصیة لأھل الفسق یستعینوا بھا علی فسقھم ، ففیھا رأیان : بحسب الخلاف فی مبدأ الذرائع ،
فیری الحنفیة و الشافعیة أن الوصیة صحیحة ، عملاً بظاہر العقد ، فلم یشتمل لفظ الوصیة علی محرم ، و یترك أمر النیة و القصد للہ تعالیٰ اھ( ۸/ ۳۰)۔