جناب مفتیانِ کرام جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بعداز سلام مسنون عرض یہ ہے کہ ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں، ابھی حال ہی میں ہمارے والد صاحب طویل بیماری کے بعد انتقال کر گئے بیماری کی حالت ایسی ہوگئی تھی کہ نماز کے اوقات یاد رہتے تھےنہ ہی بیٹھ کر نماز پڑھ سکتے تھے، انتقال کے وقت ان سے دو سال پانچ مہینے کی نمازیں اور دو ماہ کے رمضان کے روزے چھوٹے تھے۔
اب مولانا صاحب ! سوال یہ ہے کہ والد صاحب کے انتقال کے تین دن بعد والد صاحب کا ایک رشتہ دار ہمارے گھر آیا اور تینوں بھائیوں کو بلا کر کہا کہ تم اس بات کا اقرار کر لو کہ ہمارے والد صاحب کے اوپر جتنی نمازیں اور جتنے روزے ہیں، اب وہ ان کے اوپر نہیں، بلکہ ہمارے ذمّہ ہیں، اس وقت مجبوراً ہم تینوں بھائیوں نے بزبانِ خود اقرارکیا اور مذکور الفاظ اپنے منہ سے ادا کۓ اور ہم سے قسم بھی کہلوائی، اس کے بعد ہم نے پنجگورمیں مفتی صاحب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ تم اقرار نہ کرتے اور یہ اپنے اوپر لازم نہ کرتے، لیکن یہ مذکور نماز، روزوں کا فدیہ تو بہت زیادہ بتلایا گیا، اب جبکہ ہمارے پاس اتنے وسائل بھی نہیں کہ ہم یہ ادا کریں ،ہم تو ایک مہینہ کا بھی نہیں نکال سکتے جہ جائیکہ دو سال پانچ مہینے کی نمازیں اور دو ماہ کے روزوں کا ، ایک آدمی نے ہم کو بتایا کہ ایک حیلہ ہے جس سے والد مرحوم کے ذمّہ نمازوں اور روزوں کا فدیہ بھی ادا ہو جائےگا اور تم بھی اپنی قسم سے بری ہو جاؤگے شریعت میں اگر ایسی کوئی صورت ہے تو خدا را ہماری راہ نمائی فرمائیں کہ ہم کیا کریں؟
نوٹ: مرحوم نے اپنی زندگی میں کوئی وصیت بھی نہیں کی ہے۔
مذکور طریقہ سے کسی دوسرے کی چھوٹی ہوئی نمازیں اور روزے اپنے اوپر لازم کرنے سے شرعاً وہ اس آدمی پر لازم نہیں ہوتے اور جب مرحوم نے وصیت نہیں کی تو ان نمازوں کا فدیہ بھی لازم نہیں، البتہ سائل اور اس کے مذکور بھائیوں نے اگر ان نمازوں وغیرہ کا فدیہ دینے کی قسم اُٹھائی ہو تو حسبِ استطاعت جتنا جتنا ہو سکے وہ اس کی ادائیگی کرتے رہیں، یک مشت اس فدیہ کی ادائیگی لازم نہیں، جبکہ شخصِ مذکور کا اس طرح مرحوم کے ورثاء سے قسم لینا اور انہیں مجبور کرنا قطعاً درست نہیں تھا، اسے اپنے مذکور طرزِ عمل سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار: ولو مات وعليه صلوات فائتة الخ وفی حاشية ابن عابدين: (قوله وعليه صلوات فائتة إلخ) أي بأن كان يقدر على أدائها ولو بالإيماء، فيلزمه الإيصاء بها وإلا فلا يلزمه وإن قلت، بأن كانت دون ست صلوات، لقوله - عليه الصلاة والسلام - «فإن لم يستطع فالله أحق بقبول العذر منه» وكذا حكم الصوم في رمضان إن أفطر فيه المسافر والمريض وماتا قبل الإقامة والصحة اھ (2/ 72)۔