کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص دس سال قبل ، بوجہ گردوں کی بیماری میں مبتلا ہونےکے ہسپتال میں داخل ہوا یہاں تک کہ رمضان المبارک کا مہینہ اس نے پایا ،تو بوجہ ڈاکٹر کے منع کرنے اور شدّتِ مرض کے ،روزے نہ رکھ سکا ، ابھی وہ فوت ہوگیا ، اس حال میں کہ اس نے وصیت وغیرہ نہیں کی، لیکن اس کے روزے نہ رکھنے کا علم اس کے عزیز و اقارب کو ہے ، اب آیا اس کی طرف سے اس کے عزیز و اقارب روزے رکھنا چاہیں تو اس کی طرف سے ادائیگی ہو جائے گی یا نہیں؟ یا فدیہ دینا پڑےگا اور نماز اور روزہ کا فدیہ کیا ہے؟ مفصل و مدلل جواب دے کر ممنون فرمائیں۔
واضح ہو کہ جب مرحوم نے ان قضاء نمازوں اور روزوں کی وصیت نہیں کی تو اس صورت میں ورثاء پر فدیہ دینا شرعاً لازم بھی نہیں، البتہ کوئی ایک وارث یا سب اپنی طرف سے اس کا فدیہ دینا چاہیں تو اس کا انہیں اختیار ہے اور امید ہے کہ ربِ کریم اُسے قبول فرما کر اُسے مرحوم کے لیے بھی ذریعۂ نجات قرار دے دیں اور ہر نماز اور ہر روزہ کا فدیہ پونے دو سیر گندم یا اس کی قیمت مستحقین کو دے دینا ہے، جبکہ مرحوم کی طرف سے کسی دوسرے کا ان نمازوں اور روزوں کی قضاء رکھنا شرعاً درست نہیں اور نہ ہی اس طرح کرنے سے مرحوم کا ذمہ بری ہوگا۔
ففی حاشية ابن عابدين: وإن لم يوص لا يجب على الورثة الإطعام لأنها عبادة فلا تؤدى إلا بأمره و إن فعلوا ذلك جاز و يكون له ثواب. اهـ. و لا شبهة في أن الضمير في له للميت و هذا هو الظاهر اھ(2/ 425)۔
و فیه أیضاً: و الفدية لكل يوم مد حنطة كما في البدائع اھ(2/ 423)۔
و فی الدر المختار: (و إن صام أو صلى عنه) الولي (لا) لحديث النسائي «لا يصوم أحد عن أحد و لا يصلي أحد عن أحد و لكن يطعم عنه وليه» اھ(2/ 425)۔