احکام وصیت

اپنی جائیداد میں سے کتنے حصے کی حد تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کرنے کی وصیت کی جا سکتی ہے ؟

فتوی نمبر :
67968
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / جنائز / احکام وصیت

اپنی جائیداد میں سے کتنے حصے کی حد تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کرنے کی وصیت کی جا سکتی ہے ؟

محترم مفتی صاحب:السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !میں ایک خاتون ہوں اور عمر کے اس حصے میں ہوں کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، میرے خاوند کا بھی انتقال ہوچکا ہے اور میری اپنی کوئی اولاد بھی نہیں ہے،البتہ میرے خاوند کی پہلی بیگم(مرحومہ) سے تین بچے ہیں(دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے)،اب میں اپنا وصیت نامہ لکھنا چاہتی ہوں،اس سلسلہ میں آپ کی رہنمائی درکار ہے۔
1. میرا پہلا سوال یہ ہے کہ میں اپنی جائیداد میں سے کتنا حصہ اللہ کے راستے میں وقف کرنے کی وصیت کرسکتی ہوں؟
2. دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد میرے ترکے یعنی وراثت کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ جبکہ میرے قریبی رشتہ داروں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے، میری اپنی کوئی اولاد نہیں ہے،میرے پانچ بھائی تھے جو کہ تمام فوت ہوچکے ہیں البتہ ان کی اولادیں موجود ہیں،میری تین بہنیں تھیں جن میں سے دو بہنیں ابھی حیات ہیں اور ان کی اولاد بھی ہے، یعنی اب صرف میری دو بہنیں ہی حیات ہیں باقی تمام فوت ہوچکے ہیں۔نوٹ:بہن بھائیو ں کی اولاد کی تفصیل اگر ضرورت ہوتو مہیا کی جاسکتی ہے۔۔۔جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ جب تک بقیدِ حیات ہو اسے اپنی صحت والی زندگی میں مرض الوفات میں مبتلاء ہونے سے قبل اپنے مال و جائیداد میں ہر طرح کے جائز تصرف کا حق حاصل ہوگا، چنانچہ سائلہ اپنی زندگی میں اپنے مال وجائیداد میں سے جتنا چاہے اللہ کے راستے میں خرچ یا وقف کر سکتی ہے، البتہ اگر سائلہ اپنے مال و جائیداد کے متعلق وصیت کرنا چاہتی ہو تو ایسی صورت میں سائلہ کو اپنے مال کے ایک تہائی (3/1) حصہ کی حد تک وصیت کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اور بقیہ مال میں وصیت کا نافذ ہونا ورثاء کی اجازت و رضا مندی پر موقوف ہوگا۔
جبکہ سائلہ کی وفات کے وقت اسکی ملکیت میں جو کچھ موجود ہوگا، وہ اسکے اُس وقت موجود ورثاء کے درمیان حسبِ حصصِ شرعی تقسیم کیا جائے گا، چنانچہ اس وقت اگر سائلہ کی بہنیں اور بھتیجے حیات ہوں تو سائلہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق ان کے درمیان حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہو گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی مشكاة المصابيح: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّٰهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ-صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ-قَالَ:«لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ»مُنْقَطِعٌ هَذَا لَفْظُ الْمَصَابِيحِ. وَفِي رِوَايَةِ الدَّارقُطْنِيِّ: قَالَ:«لَا تَجُوزُ وَصِيَّةٌ لِوَارِثٍ إِلَّا أَنْ يَشَاء الْوَرَثَة»(2/925)
و فی سنن الترمذي: عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ عَلَى نَاقَتِهِ وَأَنَا تَحْتَ جِرَانِهَا وَهِيَ تَقْصَعُ بِجِرَّتِهَا، وَإِنَّ لُعَابَهَا يَسِيلُ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ:إِنَّ اللَّٰهَ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، وَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ،الحدیث(4/434)
و فی الدر المختار: (وتجوز بالثلث للأجنبي) عند عدم المانع (وإن لم يجز الوارث ذلك لا الزيادة عليه إلا أن تجيز ورثته بعد موته) ولا تعتبر إجازتهم حال حياته أصلا بل بعد وفاته اھ(6/651)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
شہزاد ذوالفقار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 67968کی تصدیق کریں
0     832
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی مسلمان کا رشتہ دار کے متعلق یہ کہنا ’’ کہ وہ میرے جنازے میں بھی شریک نہ ہو اور نہ وہ جنازے کو کندھا دے‘‘

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وصیت 0
  • بارہ سال کی عمر سے فدیہ کی ادائیگی کی وصیت کرنا

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • متعین مسجد میں اپنا مال دینے کی وصیت کرنا

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • وصیت نہ کۓ جانے کی صورت میں قضا شدہ نماز و روزہ کے فدیہ کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وصیت 1
  • کسی کا ورثاء کو قسم دیکر مرحوم کی جانب سے نماز اور روزوں کے فدیہ دینے پر مجبور کرنا

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • مرنے والے کی نماز کا فدیہ دیا جا سکتا ہے؟

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • والدہ مرحومہ کی فضاء نمازوں کے فدیہ دینے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وصیت 1
  • والد مرحوم کی طرف سے فوت شدہ نمازوں کے فدیہ دینے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • اپنی جائیداد میں سے کتنے حصے کی حد تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کرنے کی وصیت کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • والدہ مرحومہ کے ذمہ گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
Related Topics متعلقه موضوعات