احکام وصیت

والدہ مرحومہ کے ذمہ گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا حکم

فتوی نمبر :
64684
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / جنائز / احکام وصیت

والدہ مرحومہ کے ذمہ گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا حکم

السلام علیکم !میری امی کی وفات 9 نومبر 2022ء کو ہوئی ہے ، میری امی کے پاس 1985ء سے 2010ء تک ساڑھے 9 تولہ سونا تھا اور 2010ء سے2022ء تک 6 تولہ سونا تھا ، اس کی زکوٰۃ کیسے دینگے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں سائل کی والدہ مرحومہ نے اگر اپنے ذمہ واجب الاداء زکوٰۃادا کرنے کی وصیت نہ کی ہو، تو مرحومہ کے ورثاء کےذمہ مرحومہ کی زکوٰۃ کی ادائیگی لازم نہیں ، تاہم اگر مرحومہ کے تمام ورثاء یا سائل اپنےطور پر مرحومہ کے ذمہ واجب الاداء زکوٰۃکی ادائیگی کرنا چاہیں تو ا یسا کرنا بھی شرعاً جائز اور درست ہے ، جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سائل یا تو ساڑھے نو تولےسونے کے حساب سے سونے میں سے ہر سال کی زکوٰۃ کے بدلے چالیسواں حصہ ادا کرتے رہے اور جب سونا نصاب کی مقدار سے کم رہ جائے اور اس کے ساتھ چاندی،نقدی اور مال تجارت میں سے کچھ نہ ہو تو پھر سائل کی والدہ مرحومہ کے ذمہ سے بقیہ سالوں کی زکوٰۃساقط ہوجائے گی ، یا سونے کی موجودہ مارکیٹ ریٹ معلوم کر کےاس سے ڈھائی فیصد کے حساب سے گزشتہ پہلے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، اس کے بعد اگلے سال کی زکوۃ نکالتے وقت پہلے سال کی زکوۃ کی مقدار (ڈھائی فیصد) کو بقیہ مال سے منہا کرکے حساب لگا کر دوسرے سال کی زکوٰۃ ادا کرے، پھر اس سے اگلے سال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ دوسالوں کی زکوۃ کی مقدار کو منہا کرکے بقیہ کل مال کا ڈھائی فیصد نکالے، اسی طرح حساب کر کے تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرے، جبکہ2010ء سے 2022ء تک (12)سال سے سائل کی والدہ مرحومہ کے پاس اگر چھ تولہ سونا کے ساتھ چاندی ،نقدی اور مال تجارت میں سے کچھ بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں فقط چھ تولہ سونے پراس کےذمہ زکوۃ لازم نہ ہوگی ۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الھدایۃ: الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما و حال عليه الحول " أما الوجوب فلقوله تعالى: {و آتوا الزكاة} [البقرة: ٤٣] و لقوله صلى الله عليه و سلم " أدوا زكاة أموالكم " و عليه إجماع الأمة اھ (1/95) ۔
البحر الرائق شرح كنز الدقائق : أنه لو مات من عليه الزكاة لاتؤخذ من تركته لفقد شرط صحتها، و هو النية إلا إذا أوصى بها فتعتبر من الثلث كسائر التبرعات. (2/227)۔
و فی رد المحتار : في الجوهرة : إذا مات من عليه زكاة أو فطرة أو كفارة أو نذر لم تؤخذ من تركته عندنا إلا أن يتبرع ورثته بذلك وهم من أهل التبرع ولم يجيزوا عليه وإن أوصى تنفذ من الثلث. (2/ 359)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
میر اٖفضل اکبر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 64684کی تصدیق کریں
0     684
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کسی مسلمان کا رشتہ دار کے متعلق یہ کہنا ’’ کہ وہ میرے جنازے میں بھی شریک نہ ہو اور نہ وہ جنازے کو کندھا دے‘‘

    یونیکوڈ   اسکین   احکام وصیت 0
  • بارہ سال کی عمر سے فدیہ کی ادائیگی کی وصیت کرنا

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • متعین مسجد میں اپنا مال دینے کی وصیت کرنا

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • وصیت نہ کۓ جانے کی صورت میں قضا شدہ نماز و روزہ کے فدیہ کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وصیت 1
  • کسی کا ورثاء کو قسم دیکر مرحوم کی جانب سے نماز اور روزوں کے فدیہ دینے پر مجبور کرنا

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • والد مرحوم کی طرف سے فوت شدہ نمازوں کے فدیہ دینے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • والدہ مرحومہ کی فضاء نمازوں کے فدیہ دینے کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وصیت 1
  • مرنے والے کی نماز کا فدیہ دیا جا سکتا ہے؟

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • اپنی جائیداد میں سے کتنے حصے کی حد تک اللہ تعالیٰ کے راستے میں وقف کرنے کی وصیت کی جا سکتی ہے ؟

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
  • والدہ مرحومہ کے ذمہ گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ کا حکم

    یونیکوڈ   احکام وصیت 0
Related Topics متعلقه موضوعات