اگر مرد پانچ سال تک اپنی بیوی سے مباشرت یا بات نہ کرے، اور ایک ہی گھر میں رہ رہے ہوں، تو کیا طلاق ہو جاتی ہے یا باقاعدہ دینی پڑتی ہے؟
زبانی یا تحریری طلاق دئیے بغیر مرد کا اپنی بیوی سے اس طرح دور رہنے اور بات نہ کرنے سے شرعا کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی، بلکہ دونوں کا نکاح بدستور برقرار رہتا ہے اور کسی دوسری جگہ عقد نکاح کیلئے شوہر سے باضابطہ طلاق یا خلع کے ذریعہ علیحدگی حاصل کرنا ضروری ہے۔
کما في الدر المختار : وشرعا ( رفع قيد النكاح فى الحال بالبائن ( أو المال ) بالرجعي بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق فخرج الفسوخ الخ
وفي الشامية: إن ركنه اللفظ فليس اللفظ حقيقته بل دال عليه فلذا قال المصنف تبعا للفتح إنه رفع قيد النكاح بلفظ مخصوص الخ( ۳ /۲۲)