کیا وظیفہ پڑھنا جائز ہے ؟ اور نکاح کیلئے کو نسا وظیفہ پڑھنا چاہیئے ؟ کیا یہ (مندرجہ ذیل) وظیفہ پڑھنا جائز ہے؟
” شادی کی تجویز کے لئے وظیفہ: تین مرتبہ درود شریف پڑھیں،سورۂ انشراح(ألم نشرح لك صدرك) (سورت نمبر 94-عم پارہ)اکیس مرتبہ پڑھیں “جب اس آیت”اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْراً“ تک پہنچیں تو اسے تین مرتبہ پڑھیں، پھر سورت مکمل کریں، اس کے بعد درج ذیل دعا گیارہ مرتبہ پڑھیں،”فَسَهِّلْ يَا إلٰهىْ كُلِّ صَعْبٍ بِحُرْمَةِ سَيِّدِ الْأَبْرَارِ سَهِّلْ“(مذکورہ بالا عمال کو 40 دن تک باوضو ہو کرقبلہ کی طرف منہ کرکے بغیر کسی سے بات کئے کریں۔)
کسی بھی جائز مقصد کیلئے کوئی ایسا وظیفہ پڑھنا جو قرآن و سنت سے ثابت ہو، یا اکابر علماء کے تجربات سے ثابت ہو جائز اور درست ہے، چنانچہ سوال میں مذکور دعا کا معمول رکھنے اور سورۂ طٰہٰ کی آیت نمبر(۱۳۱/۱۳۲) کو لکھ کر اپنے پاس رکھنے سے ان شاء اللہ اپنے مطلب میں کامیابی ہوگی۔
کما في مرقاة المفاتيح: وعن جابر - رضي الله عنه – قال: "سئل النبي - صلى الله عليه وسلم - عن النشرة" فقال: "هو من عمل الشيطان". رواه أبو داود.
وفيه تحت قوله: (هو من عمل الشيطان): النوع الذي كان أهل الجاهلية يعالجون به ويعتقدون فيه، وأما ما كان من الآيات القرآنية، والأسماء والصفات الربانية، والدعوات المأثورة النبوية، فلا بأس، بل يستحب سواء كان تعويذا أو رقية أو نشرة، وأما على لغة العبرانية ونحوها، فيمتنع لاحتمال الشرك فيها. (رواه أبو داود) . (8/ 320)
وفيها ايضاً: والأحاديث في القسمين كثيرة، ووجه الجمع بينهما أن الرقى يكره منها ما كان بغير اللسان العربي، وبغير أسماء الله تعالى وصفاته وكلامه في كتبه المنزلة، وإن اعتقد أن الرقية نافعة لا محالة فيتكل عليها وإياها أراد بقوله: ما توكل من استرقى، ولا يكره منها ما كان على خلاف ذلك كالتعوذ بالقرآن، وأسماء الله تعالى، والرقى بالمروية اھ (8/ 303)
وفي الشامية: (قوله التميمة المكروهة) أقول: الذي رأيته في المجتبى التميمة المكروهة ما كان بغير القرآن، (إلی قوله) إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، اھ (6/ 363)