ایک آدمی نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور اسے احساس ہوا کہ، اس نے غلط کیا ہے، اس نے اپنے آپ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی" کہا ہے اس کا دوسری دفعہ خود سے بات کرتے ہوئے ماضی کی بات کو دہرانے کی نیت سے ہے کہ میں نے کیا کہا ہے وہ ماضی کے اس خیال میں کھویا ہوا ہے ،اس کی طلاق دینے کی نیت نہیں ، بلکہ سابقہ بات پر ندامت میں کہ رہا ہے ،میں نے سنا ہے کہ حنفی مذہب میں صرف طلاق کا لفظ منہ سے نکال دیں اور طلاق کی نیت نہ ہو تو طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
اگر ماضی کے کسی بات کو یاد رکھنے کے لئے دہرایا جائے اورآدمی کو پتانہ چلے کہ اس کی زبان سے طلاق کہ الفاظ نکل گئے ہیں۔
صورت مسئولہ میں دوسری مرتبہ طلاق سے شخص مذکور کی مراد انشاء طلاق کی نہ تھی، بلکہ پہلی طلاق کے الفاظ کو ہی دہرانا تھا، تو اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ہے ، اس لئے شخص مذکور اور اس کی بیوی حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، مگر آئندہ کیلئے اس کو فقط دوطلاقوں کا اختیار رہے گا، اسلئے اسے چاہیے کہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لے۔