ہمارے آفس کی بلڈنگ میں مسجد ہے،جہاں کوئی امام مقررنہیں ہے،کوئی بھی شخص جماعت کروا دیتا ہے، اگر ایسے میں کسی ایسے شخص کی امامت میں نماز پڑھ لی، جس کی نہ داڑھی ہو ا ور نہ ہی کپڑا ٹخنوں سے اُوپر ہو تو کیا ایسےشخص کے پیچھے اگر نماز پڑھ لی ہوتو کیا لوٹانی پڑے گی اورجتنی بھی نمازیں ایسے پڑھی ہوں تو کیا سب لوٹانی ہوگی اور جماعت نکلنے کے ڈر سے ایسےشخص کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے یا اپنی الگ نماز پڑھنا صحیح ہے؟ رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ امام ایسے شخص کو بنانا چاہیے جو متبعِ سنت اور دین دار ہونے کے ساتھ مسائلِ نماز سے بھی واقف ہو، تاہم اگر کوئی متبعِ سنت شخص نہ ملے تو جماعت ترک کرنے کے بجائے ایسے شخص کی اقتداء میں نماز پڑھنا بھی درست ہے اور اس نماز کو لوٹانے کی بھی ضرورت نہیں۔
کما فی الدر المختار: (ويكره) تنزيها (إمامة عبد) (وأعرابي) (وفاسق وأعمى) الخ
وفی رد المحتار: تحت (قوله ويكره تنزيها إلخ) لقوله في الأصل: إمامة غيرهم أحب إلي بحر عن المجتبى والمعراج، ثم قال: فيكره لهم التقدم؛ ويكره الاقتداء بهم تنزيها؛ فإن أمكن الصلاة خلف غيرهم فهو أفضل وإلا فالاقتداء أولى من الانفراد اھ (1/559)۔