طلاق کے الفاظ " طالقہ " تھے عربی میں ، میں نے دو دفعہ سنا ہے، بعد میں شوہر نے کہا کہ میں نے دو دفعہ کہا، جلدی جواب دیجئے۔ وہ اس وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ تھے اور مراد " طالقہ" سے انکی بیوی تھی۔ اصل میں جب میں پاکستان میں تھی اپنے امی ابو کے پاس تو ان دنوں میں میری ساس نے میرے شوہر کو میرے خلاف بہت باتیں کی، پھر جب میں واپس مدینہ آئی اپنے شوہر کے پاس , کبھی اگر مجھ سے کوئی چھوٹی سی بھی غلطی ہو جائے تو میری ساس میرے شوہر کو کہتی ہیں کہ دیکھو آج اس نے یہ کیا، اسکو کچھ نہیں آتا۔ بس انہیں باتوں کیوجہ سے میرے شوہر کو اب مجھ سے بہت اختلاف رہتا ہے۔ اگر آپ فتوے کے ساتھ مجھے کچھ پڑھنے کو بھی بتا دیں جس کیوجہ سے میں اپنے شوہر اور انکی امی کے دل میں اپنی محبت ڈال سکوں ۔ آپکی بہت مہربانی ہوگی، شکریہ۔
سائلہ نے جب دو دفعہ سنا ہے اور شوہر کا بھی یہی دعوی ہے کہ اس نے طلاق دینے کی غرض سے یہ الفاظ دو دفعہ کہے ہیں تو دو طلاقِ رجعی واقع ہوگئیں اور شوہر کو عدت کے اندر اندر رجوع کا حق حاصل ہے۔ مگر اس رجوع کے بعد آئندہ کیلئے شوہر کو صرف ایک طلاق دینے کا اختیار ہوگا، اسلئے اسے چاہیئے کہ آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لے۔ جبکہ شوہر کی دلجوئی کیلئے مندرجہ ذیل آیت کو پڑھ کر شیر ینی پر دم کر کے وہ اپنے شوہر کو کھلادے تو ان شاء اللہ مراد پوری ہو جائے گی-
وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَعْبَ اللهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حَبًّا لِلَّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْيَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلهِ جَمِيعًا وأن الله شديد العذاب ( ماخذ از "اعمال قرآنی " )۔
کما فی القرآن الکریم: "وَمِنَ النَّاسِ مَن يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَعْبَ اللهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حَبًّا لِلَّهِ وَلَوْ يَرَى الَّذِينَ ظَلَمُوا إِذْيَرَوْنَ الْعَذَابَ أَنَّ الْقُوَّةَ لِلهِ جَمِيعًا وأن الله شديد العذاب (البقرة . ۱۶۵).
كما في الدر المختار : وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع) ومنع غيره فيها لاشتباه النسب الخ (ج ۳، ص ۴۰۹) .
و في رد المحتار تحت (قوله إن لم يطلق بائنا هذا بيان لشرط الرجعة، الخ (ج ۳، ص ۳۹۷)،