امامت و جماعت

مقتدی کا امام کے پیچھے قراءت کرنے کی مختلف صورتوں کا حکم

فتوی نمبر :
33597
| تاریخ :
2018-03-22
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مقتدی کا امام کے پیچھے قراءت کرنے کی مختلف صورتوں کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب! نماز ظہر اور عصر میں مقتدی امام کے پیچھے نماز (سورہ فاتحہ) پڑھے گا یا خاموش رہےگا؟ اور نماز مغرب میں تیسری رکعت میں بھی مقتدي نماز یعنی سورہ فاتحہ پڑھےگا یا خاموش کھڑا ہوگا؟ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ جس کےلیےمیں بہت پریشان ہوں کہ اگر نماز ظہر یامغرب میں اگر بندہ مسجد جائے اور امام کے ساتھ 2 رکعت میں شامل ہوئے تو باقی 2 رکعتوں میں خاموش کھڑا ہوگا یا فاتحہ پڑھے گایا فاتحہ سے پہلے ثناء بھی پڑھےگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ظہر اور عصر کی نماز ہو یا فجر، مغرب اور عشاء کی تمام نمازوں میں امام کی اقتداء میں مقتدی کے لئے قراءت کرنا جائز نہیں، بلکہ قیام کی حالت میں خاموشی سے کھڑا رہنا لازم ہے ، جبکہ جن رکعتوں میں مقتدی امام کیساتھ شریک نہ ہوسکے تو امام کے سلام پھیرنے کے بعد اسکی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ پہلی رکعت میں ثناء ”اعوذ باللہ“ اور ”بسم اللہ“ پڑھ کرسورہ فاتحہ اور کوئی سورت ملا کر رکعت پوری کی جائے اسکے بعد دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑھی جائے، البتہ شروع میں ثناء اور اعوذ باللہ نہ پڑھی جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففي صحيح مسلم: فقال أبو موسى الاشعرى: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم خطبنا فبين لنا سنتنا وعلمنا صلاتنا. فقال: " إذا صليتم فأقيموا صفوفكم ثم ليؤمكم أحدكم، فإذا كبر فكبروا ، واذا قرء فانصتوا وإذ قال غير المغضوب عليهم ولا الضالين[الفاتحة: 7]، فقولوا: أمين (بطریق سلیمان تیمی (174/1)۔
وفي الفتاوى الهندية: (منها) أنه إذا أدرك الإمام في القراءة في الركعة التي يجهر فيها لا يأتي بالثناء. كذا في الخلاصة هو الصحيح. كذا في التجنيس وهو الأصح. هكذا في الوجيز للكردري سواء كان قريبا أو بعيدا أو لا يسمع لصممه. هكذا في الخلاصة فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة والظهيرية. وفي صلاة المخافتة يأتي به. هكذا في الخلاصة ويسكت المؤتم عن الثناء إذا جهر الإمام هو الصحيح. كذا في التتارخانية.(90/1)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33597کی تصدیق کریں
0     1016
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات