السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ اگر کسی لڑکی کی اس کی پسند کے خلاف شادی ہو جائے اور وہ اس مرد کو پسند نہ کرتی ہو، وہ مرد شادی کے بعد اس سے پیار کا اظہار بھی نہ کرتا ہو، ہر بات پر ڈانٹتا ہو، ہمبستری کیلئے بیوی کی رضا مندی کے خلاف کرے بیوی کا اگر دل نہیں کر رہا ہمبستری کیلئے، اور کیو نکہ اسے وہ مرد پسند نہیں تو کیا وہ انکار کر سکتی ہے ؟ وہ مرد ہمبستری سے پہلے بوس و کنار بھی نہیں کرتا، وہ لڑکی مجبوری سمجھ کر اس مرد کے ساتھ رہ رہی ہو تو اسے کیا کرنا چاہیے؟
پسند نا پسند کا معیار نکاح سے قبل کا ہے اور جب نکاح اور رخصتی ہو جائے تو پھر زندگی گزارنے اور ایک دوسر کے حقوق ادا کرنے کے متعلق سوچنا چاہیئے، لہذا جس لڑکی کی شادی اس کی مرضی کے خلاف ہوئی ہو اگر اس مرد میں کسی طرح کی کمی نہیں ہے اور بیوی کے حقوق واجبہ نان نفقہ ادا کرنے پر وہ قادر ہو تو محض اپنی پسند کو بنیاد بنا کر اپنے گھر کو توڑنا بڑی حماقت ہے، اس لئے اس جوڑے کو چاہیئے کہ اپنی پسند کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہیں اور اپنے گھر کو بسانے کی فکر کریں، جبکہ مذکور لڑکی کے شوہر کو بھی چاہیئے کہ بیوی کی رعایت کرتے ہوئے اپنا جائز حق اس سے حاصل کرنے کی کوشش کرے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: { وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا} الآیة [النساء: 19]
وفي سنن الترمذي: طلق بن علي قال: قال رسول الله ﷺ إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور الحدیث (3/465)
وفي رد المحتار: والطلاق أبغض الحلال إلى الله تعالى فليس عبادة فلذا لم يلزمه شيء۔اھ (3/254)