پوچھنا یہ ہے کہ داڑھی کٹوانے والے شخص کے پیچھے فرض نماز ہو جاتی ہے ؟ اور حافظِ قرآن جو داڑھی کٹواتا ہو ، اس کے پیچھے نمازِ تراویح ہو جاتی ہے ؟ تفصیل سے دونوں سوالوں کا جواب عنایت فرما دیں۔
ایسا امام یا حافظ جو داڑھی منڈواتا یا کترواتا ہو ، فاسق و فاجر ہے ، اس کو اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں، چاہے نماز فرض ہو یا تراویح وغیرہ، تاہم اگر ان کی اقتداء میں نماز پڑھ لی گئی ہو تو نماز کراہت کے ساتھ ہو گئی ، ہے دوبارہ لوٹانے کی ضرورت نہیں۔
في الدر المختار : و لا بأس بنتف الشيب ، و أخذ أطراف اللحية و السنة فيها القبضة. (إلی قوله) و لذا يحرم على الرجل قطع لحيته اھ (6/ 407)۔
و فيه ايضاً : و يكره امامة عبد و اعرابی و فاسق اھ (1/ 560)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله و فاسق) من الفسق : و هو الخروج عن الاستقامة ، و لعل المراد به من يرتكب الكبائر كشارب الخمر ، و الزاني و آكل الربا و نحو ذلك اھ (1/ 560)۔