آدمی سے غلطی سے کلماتِ کفریہ ادا ہوگئے ہوں اور تجدید ِنکاح کے وقت عورت سے آدمی دو گواہوں کی موجودگی میں دریافت کرے کہ کیا تم مجھے نکاح میں قبول کرتی ہو ؟عورت کہے نہیں , اس کے چند دن بعد راضی ہو جائے , اگلی دفعہ پوچھنے پر ہاں کہے , توکیانکاح کی طلاق کی تعداد ميں کمی بيشی ہو گی ؟
اگر کوئی شخص ” العیاذ باللہ “کوئی کفریہ کلمہ کہے تو اس سے اسکا نکاح بھی ختم ہو جاتا ہے پھر اسکے بعد اگر وہ باقاعدہ گوا ہوں کی موجودگی میں باہمی رضا مندی سے ایجاب و قبول کرلے تو اسکا نکاح دوبارہ بحال ہو جاتا ہے اور اسکی وجہ سے طلاق کی تعداد میں بھی کوئی کمی نہیں ہوتی بلکہ بدستور اسکے پاس تین طلاقوں کا اختیار برقرار رہتا ہے ، تاہم آئندہ کیلئے ایسے کفریہ کلمات کہنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الہندیۃ : ارتد أحد الزوجين عن الإسلام وقعت الفرقة بغير طلاق في الحال قبل الدخول وبعده الخ (کتاب النکاح، الباب العاشر ، جلد:1، صفحہ:339، ط: دار الفکر)-