میری شادی میرے والد صاحب کے نہایت ہی قریبی دوست کی بیٹی سے جولائی ۲۰۱۱ءمیں ہوئی ، ہم دونوں خاندانوں کی باہمی رضامندی سے، اور اس سے اللہ پاک نے مجھے ایک بیٹے سے نوازا، مگر بد قسمتی سے میری اپنی بیوی سے تعلقات اچھے نہیں رہے شروع سے ہی، جسکی وجہ سے ہم دونوں میں دوریاں پیدا ہو گئی ، جناب شادی سے پہلے میری ایک عورت سے (جس نے اپنے شوہر سے خلع لی ہوئی تھی) دوستی تھی، مگر شادی کے بعد میں نے اس سے رابطہ ختم کر دیا تھا، مگر بیوی سے تعلقات صحیح نہ ہونے کی وجہ سے میرا اس عورت سے رابطہ بحال ہو گیا، پھر میں نے اگست ۲۰۱۵ءمیں اس عورت سے اپنی پہلی بیوی کو بتائے بغیر نکاح کر لیا ، جس سے میری کوئی اولاد نہیں ہے ، جناب اب میں نے خود اپنی پہلی بیوی کو ۲۵ جولائی ۲۰۱۸ءکی رات بتا دیا کہ میں نے دوسری شادی کرلی ہے ، جس پر وہ شدید ناراض ہو کر بچے کو لیکر اپنی ماں کے گھر چلی گئی، جب میں نے اس سے بات کی کہ میں آپ دونوں کو رکھنا چاہتا ہوں مگر وہ نہیں مانی اور چلی گئی ، اب وہ اور اس کے گھر والے یہ کہتے ہیں کہ اگر دوسری بیوی کو طلاق دو تو پھر ہم آگے بات کریں گے ، جبکہ میں نہیں چاہتا کہ میں طلاق دوں مگر میں اپنے بچے کو بھی نہیں کھونا چاہتا، برائے مہربانی شریعت کی روشنی میں کوئی حل تجویزکریں۔
سائل نے جس خاتون سے دوسری شادی کی ہے اگر اس نے پہلے شوہر کی رضامندی سے باقاعدہ خلع لیا تھا اور اس کی عدت کے بعد سائل نے اس کے ساتھ نکاح کیا ہو تو مذکور نکاح درست ہوا ہے، سائل دونوں بیویوں کے حقوق اور نان و نفقہ دینے پر قادر ہو تو پہلی بیوی اور اس کے والدین کا معترض ہونا درست نہیں ، البتہ سائل کو چاہئے تھا کہ والدین اور سسرال والوں کو اعتماد میں لیکر شادی کرتا، تاہم اعتماد میں نہ لے سکا ہو تو اب اعتماد میں لے تا کہ گھر کا ماحول مزید خراب نہ ہو۔
کما في سنن ابي داود: حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن أيوب عن أبي قلابة، عن أبي أسماء، عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس، فحرام عليها رائحة الجنة (1/543)