سوال: حضرت مجھے بڑے عجیب عجیب وسوسےآتے ہیں ، بعض وسوسے تو ایسے ہوتے کہ میرا دل ڈر جاتا ہے ، پھر میں استغفار کرتا ہوں اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتا ہوں ، میرا سوال یہ ہے کہ ان وساوس کا بروز قیامت اللہ تعالیٰ کے ہاں ہم سے سوال ہوگا؟ مہربانی کر کے راہنمائی فرما دیں اور کوئی اچھا سا ذکر بھی بتا دیں کہ جب یہ وسو سے آئیں تو میں وہ پڑھ سکوں؟
جو خیالات اور وسو سے غیر اختیاری طور پر آتے ہیں اور گزر جاتے ہیں ان سے نہ ایمان میں کوئی خلل واقع ہوتا ہے اور نہ ہی اس پر گناہ لازم آتا ہے،چنانچہ جب بھی کوئی خیال آئے تو اَعُوذُ بِالله مِن الشَّيْطَانِ الرجیم پڑھ لیا کریں اور ان وساوس کی وجہ سے پریشان ہونے اور ان کے متعلق سوچنے کی ضرورت نہیں۔
کما فی صحيح البخاري : عن ابن شهاب، قال: أخبرني عروة بن الزبير، قال أبو هريرة رضي الله عنه: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " يأتي الشيطان أحدكم فيقول: من خلق كذا، من خلق كذا، حتى يقول: من خلق ربك؟ فإذا بلغه فليستعذ بالله ولينته "(4/ 123)