میرا سوال حرمت مصاہرت کے بارے میں ہے اور میرا تعلق امریکا سے ہے ، ایک والد اپنی گیارہ سالہ بیٹی کو گلے لگاتا اور اس سے کھیلتا ہے اس دوران وہ بیٹی کو بوسہ دیتا ہے چنانچہ اس دوران اس کا عضو تناسل منتشر ہوتا ہے اور دل میں اپنی بیٹی سے بدکاری کا خیال آتا ہے، لیکن وہ اس کے پستان اور شرمگاہ کو نہیں چھوتا اور بیٹی اس کی ران پر بیٹھ جاتی ہے تو باپ اُسے سختی سے گلے لگاتا ہے، لیکن باپ نہ اپنے ہاتھ اور نہ اس کے ہاتھ سے منی خارج کرتا ہے اور اس کو اب تک حیض نہیں آیا۔ لہذا اب میرے سوالات یہ ہیں:
(۱) کیا اس برے فعل سے حرمت مصاہرت ثابت ہوئی یا کہ نہیں؟
(۲) کیا اس فعل کی وجہ سے آدمی کے لیے اپنی بیوی سے صحبت کرنا حرام ہو گیا ؟
(۳) کیا اس گناہ سے اس کی بیوی پر طلاق واقع ہوئی یا کہ نہیں ؟ اور کیا اس کے بعد اس کے لیے اپنی بیوی سے تجدید نکاح بھی منع ہے؟
(۴) اگر اس فعل سے احناف کے مذہب میں حرمت مصاہرت ثابت ہے تو کیا اس آدمی کے لیے اپنی بیوی کے ساتھ نکاح کو برقرار رکھنے کے لیے مالکیہ یا شوافع کے مذہب پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ، اس لئے کہ میں نے سنا ہے اور بعض لوگوں کو دیکھا ہے وہ علماء مالکیہ اور شافعیہ سے فتوی لینے کو جائز قرار دیتے ہیں اور ایسی مشکل حالت میں ان کے قول پر عمل کرتے ہیں ، اگر چہ یہ کام گناہ ہے۔ (شکریہ)۔
گیارہ سالہ بچی مشتہاہ ہوتی ہے، لہذا شخص مذکور کے اس کو شہوت سے گلے لگانے اور بوسہ دینے سے اگر انزال نہ ہوا ہو تو اس سے حرمت مصاہرت ثابت ہو چکی ہے اور اس حرکت کی وجہ سے اگرچہ بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوئی، مگر اس عمل کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو چکی ہے ، شخص مذکور کو چاہیے کہ علیحدگی اختیار کرے اور اپنی بیوی کو الفاظ متارکہ میں نے چھوڑ دیا ، آزاد کر دیا " وغیرہ بھی کہے تاکہ اس کی بیوی اس کے عقد نکاح سے آزاد ہو کر کسی دوسری جگہ شادی کر سکے،
جبکہ اگر شخص مذکور کا تعلق حنفی مسلک سے ہو تو اس کے لیے اس مسئلہ میں حنفی مذہب چھوڑ کر کسی دوسرے مذہب پر عمل کرنے کی بھی گنجائش نہیں، تاہم اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی مکمل وضاحت لکھ کر سوال دوبارہ بھیج دیں، اس پر غور و فکر کے بعد حکم شرعی بھی بیان کیا جائیگا۔
ففي الدر المختار: (و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) (إلى قوله) (وفروعهن) مطلقا والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى و في امرأة ونحو شيخ كبير تحرك قبله أو زيادته و في الجوهرة: لا يشترط في النظر لفرج تحريك آلته به يفتى هذا إذا لم ينزل فلو أنزل مع مس أو نظر فلا حرمة به يفتي اھ (3/ 33)
وفیه ايضا : (و في المس لا) تحرم (ما لم تعلم الشهوة) لأن الأصل في التقبيل الشهوة، بخلاف المس (والمعانقة كالتقبيل) اھ (3/ 36)
و في الفتاوى الهندية: ويشترط أن تكون المرأة مشتهاة كذا في التبيين والفتوى على أن بنت تسع محل الشهوة لا ما دونها كذا في معراج الدراية اھ (1/ 275)
و في الدر المختار: وبحرمة المصاهرة لا يرتفع النكاح حتى لا يحل لها التزوج بآخر إلا بعد المتاركة وانقضاء العدة اھ (3/ 37)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): قلت: يعني أن المفتي لا يفتي صاحب الحادث بما يتوصل به إلى فسخ اليمين، فلا يقول له ارفع الأمر إلى شافعي أحكمه في ذلك أو استفته، بل يقول يقع عليك الطلاق لأن عليه أن يجيب بما يعتقده، وليس له أن يدله على ما يهدم مذهبه اھ (3/ 347) والله أعلم بالصواب