مغرب کی نماز کے بعد میں بیوی پہ غصہ ہو گیا ہوں ، اور ماں باپ بھائی مجھے سمجھانے لگے تھے , اسی دوران غصے میں میری زبان سے نکلا ، مجھے بیوی کا 7 طلاق ہیں صرف ایک بار بولا تھا , کیا میری طلاق ہوگئی ہے ،اور اس سے پہلے میں نے اپنی بیوی کو بولا تھا کہ تو ں میری بہن ہے اور میں تیر ابھائی ہوں ، میں نے اس لئے کہا ہے کہ جب غصہ آیا تو میں نے اپنی بیوی کو بولا چلی جاؤ میرے گھر سے , اب میرا تیرا رشتہ ختم ہو چکا ہے ،اس کے بعد تو مجھے اپنا شوہر نہ کہو ، بس اس کے بعد توں میری بہن اور میں تیرا بھائی ہوں، نیت یہ تھی کہ اس کے رشتہ سے ابھی بس ہے،یہ باتیں میں نے دن کے تین بجے کے ٹائم بولی تھیں اور طلاق کا معاملہ رات کو ہوا تھا باقی جس وقت میں نے طلاق کہا تھا اس وقت میرا طلاق دینے کا کوئی ارادہ نہ تھا , بہر حال میرا ارادہ تھا میں نے سوچا تھا ایک بار بیوی کو گھر سے بھگاؤں بعد میں تسلی کیساتھ ، اب بتاؤ میری طلاق ہوئی ہے کہ نہیں ؟شکریہ ۔
سائل کے مذکور الفاظ" میرا تیر ارشتہ ختم تم میری بہن میں تیر ابھائی “ طلاق کی نیت سے کہنے سے ایک طلاقِ بائن واقع ہوئی تھی پھر اس کے بعد سات کا عدد لگا کر صریح لفظِ طلاق دہرانے سے مزید دو طلاق بائن بھی واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے , اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کرنے میں بھی آزاد ہے۔
كما قال الله تعالى : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ إلخ (سورة البقرة الآية: ٢٣٠)
وفی الشامیة:(قوله والبدعي) منسوب إلى البدعة والمراد بها هنا المحرمة لتصريحهم بعصيانه بحر (قوله ثلاثة متفرقة) وكذا بكلمة واحدة بالأولى الخ (3/232)۔