السلام علیکم ،اکثر اوقات جماعت کی نماز دیرسے شرکت ہوتی ہے،زیادہ ترجب امام پہلی رکعت میں رکوع میں ہوتے ہیں،اور میں ابھی اللہ اکبر کہہ کررکوع میں چلاجاتاہوں،اور رکوع اس طرح ،بغیرثناء پڑھے نماز مکمل کرلیتاہوں،میں نے سناتھا،کہ نماز میں ثناء پڑھنالازمی ہے،اور مقتدی جب اس حالت میں جماعت میں شریک ہو،جب امام رکوع میں ہو،تو اسے چاہئے کہ وہ رکوع کو وہ تین تسبیح (سبحان ربی العظیم)پڑھ کرثناء پڑھ لے،کیایہ ٹھیک ہے؟یا پھر اگرثناءچھوٹ جائے تو تب بھی نماز اداہوجائےگی؟
واضح ہو کہ نماز میں اگرثنانہ پڑھی جائے تو تب بھی نماز درست اداہوجاتی ہے،لہذامقتدی اگر امام کے ساتھ پہلی رکعت کے رکوع میں شامل ہوجائے ،توایسی صورت میں مقتدی کی نماز درست اداہوجائے گی،تاہم اگراس کے ذمہ کچھ رکعتیں باقی ہوں،تو امام کے سلام پھیرنے کے بعدجب وہ اپنی بقیہ رکعتیں پوراکرنے کے لئے کھڑا ہو تو اس وقت ثناء پڑھ کر اپنی بقیہ نمازمکمل کرے۔
وفى الفتاوى الهندية: (منها) أنه إذا أدرك الإمام في القراءة في الركعة التي يجهر فيها لا يأتي بالثناء. (إلی قوله) فإذا قام إلى قضاء ما سبق يأتي بالثناء ويتعوذ للقراءة. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة والظهيرية. (1/ 90)
وفى خلاصة الفتاوى: وفى صلاة المخافتة یأتی بالثناء اذا أدركه قائما. اھـ (ج۱، ص۱۶۵)