کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کمپنی کا ملازم ہے اور رشوت لیتا ہے اور پھر اس کمپنی میں وہ امامت بھی کرواتا ہے، اب سوال یہ ہے کہ وہ لوگ جنہیں یہ معلوم ہے کہ یہ رشوت لیتا ہے، ان کی نماز اس شخص کی امامت میں جائز ہے یا نہیں؟ اور ان کی نماز ادا ہوگی یا نہیں؟ براہِ کرم جو بھی حکمِ شرع ہو بیان فرمادیں۔
مذکور شخص اگر واقعۃً اس گناہ میں مبتلا ہو تو شرعاً یہ شخص فاسق ہے اور اسے اپنے اختیار سے امام بنانا جائز نہیں، اس لیے اگر کوئی صالح و متقی اور متبعِ شریعت شخص موجود ہو تو اسے امامت کے منصب پر فائز کرنا چاہیے اور اگر اتنی طاقت نہ ہو اور مذکور مسجد کے علاوہ دوسری کوئی مسجد بھی قریب میں نہ ہو تو پھر بجائے انفرادی نماز کے اسی امام کی اقتداء میں نماز پڑھنی چاہیے تاکہ جماعت کا ثواب حاصل ہوسکے۔
فی الدر: ویكره تنزیهًا امامة عیدٍ وفاسقٍ واعمٰی.
قال ابن عابدین: (قوله ویكره تنزیهًا) فان امكن الصلوٰة خلف غیرهم فهو افضل وإلا فالاقتداء اولٰی من الانفراد (وبعد اسطر) (قوله ای غیر الفاسق)... واما الفاسق فقد .... كراهة تقدیمه بانه لا یهتم لامر دینه وبان فی تقدیمه للإمامة تعظیمہ وقد وجب علیهم اهانته شرعًا.اهـ (ج۱، ص۵۶۰)