امامت و جماعت

گلا خراب ہونے کی وجہ سے امام سے استعفا طلب کرنا

فتوی نمبر :
35348
| تاریخ :
2018-09-11
عبادات / نماز / امامت و جماعت

گلا خراب ہونے کی وجہ سے امام سے استعفا طلب کرنا

ہماری مسجد کے امام صاحب کا گلا خراب ہونے کی وجہ سے ان کی آواز ٹھیک سے نہیں نکلتی ، اور وہ قراءت ٹھیک سے نہیں کر سکتے ، پچھلے بیس سال سے امامت کروارہے ہیں، گلا دو سال سے خراب ہے۔
(۱) کیا ایک مسجد میں دو امام رکھے جا سکتے ہیں، جبکہ مسجد کی کوئی مستقل آمدنی نہیں ہے؟
(۲) کیا امام صاحب کو ہٹا دینا بہتر ہے کہ وہ کوئی دوسری جاب کا بندوبست کریں، کیونکہ وہ قراءت نہیں کر سکتے؟
(۳) کچھ نمازی حضرات کا تعلق امام صاحب سے اچھا ہونے کی وجہ سے امام صاحب کو ابلایج کر رہے ہیں۔
(۴) کافی نمازیوں کا اعتراض ہے کہ امام صاحب کی آواز ٹھیک نہیں ہے ، اس لۓ امام صاحب کو ہٹا کر نیا امام رکھا جائے۔
(۵) مہربانی فرما کر اس مسئلے کی ٹھیک سے راہ نمائی فرمادیں تاکہ نمازی بھائیوں کی نماز ٹھیک سے ادا ہوسکے۔
(۶) امام صاحب کا مسجد نہ چھوڑنے کی وجہ سے ،مہتم صاحب نے مسجد کا انتظام چھوڑ دیا ، جو بیس سال سے مسجد کی خدمت کر رہے تھے، اب مہتمم کہتے ہیں کہ امام صاحب چھوڑ دیں تو میں انتظام سنبھال لیتا ہوں ۔
(۷) یہاں پر مہتمم کے لۓ بھی راہ نمائی فرمائی جائے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

یہ مسئلہ علاقائی نوعیت کا ہے ، اس لۓ سائل کو چاہیۓ کہ اس مسئلے کو اپنے علاقے کے معتبر علماء کے سامنے پیش کرے ، پھر وہ حضرات معاملے کی تحقیق کے بعد جو بھی فیصلہ صادر فرمائیں اس پر عمل کیا جائے، مگر واضح رہے کہ امام صاحب موصوف کی قراءت میں اگر کوئی منافئیِ صلوٰۃ غلطی نہ ہو ، بلکہ کسی بیماری کے باعث محض گلا بیٹھ جانے کی وجہ سے آواز ہلکی ہو گئی ہو ، فقط اس کو بنیاد بنا کر کچھ نمازیوں کا امام صاحب سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنا یا ان کو امامت سے فارغ کرنا تو درست نہیں، البتہ امام صاحب کی اس بیماری کا علاج اگر ممکن ہو اور اس سلسلے میں ان کو دشواری آرہی ہو ، تو ان کے ساتھ تعاون کی ضرورت ہے، جبکہ امام صاحب سے اختلاف کے باعث مہتممِ مسجد کا مسجد کے انتظام اور دیکھ بھال کو چھوڑ دینا مناسب نہیں، بلکہ محرومی کی بات ہے، اس کو چاہیۓ کہ کسی واقعہ کو بنیاد بناکر مسجد کی خدمت اور دیکھ بھال کو ترک نہ کرے ، ہر حال میں حسبِ استطاعت اس خدمت کی انجام دہی کرے ،تا کہ اجر و ثواب کا مستحق ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

في الدر المختار : (و لو أم قوما و هم له كارهون، إن) الكراهة (لفساد فيه أو لأنهم أحق بالإمامة منه كره) له ذلك تحريما لحديث أبي داود «لا يقبل الله صلاة من تقدم قوما و هم له كارهون» (و إن هو أحق لا) و الكراهة عليهم . (1/ 559)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بشیر احمد حسین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 35348کی تصدیق کریں
0     1012
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات