میں صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنی بیوی کو کتنی مہلت دے سکتے ہو ؟ وہ اپنے لئے اور دوسروں کیلئے اچھی ہے میرے اور اپنے خاندان کیلئے مجھ سمیت، شادی کے ابتدائی دو، تین ماہ میں وہ بہت اچھی تھی، مگر اب اس نے اپنی تمام ذمہ داریوں سے ہاتھ اٹھالیا، وہ میرے لئے کچھ نہیں کرتی، میں اپنے سب کام خود کرتا ہوں یا میرے لئے میری والدہ کرتی ہیں ، اور وہ پورا دن اپنے کمرہ میں سوئی رہتی ہے یا ٹی وی دیکھتی رہتی ہے، وہ گھر کے کاموں میں میری والدہ کی مدد بھی نہیں کرتی، میں نے کافی دفعہ اسے بدلنے کیلئے کہا ہے ، مگر وہ نہیں بدلتی ، اگر میں اس کیلئے کچھ کروں تو وہ اسے ایسے لیتی ہے جیسے کہ میں اس کا نوکر ہوں، تین چار ماہ سے ہم ایک دوسرے سے بات چیت بھی نہیں کر رہے، میرے لئے مزید اس کے ساتھ رہنا بہت مشکل ہے،اب میں کیا کروں؟
سائل کا بیان اگر واقعتا درست اور حقیقت پر مبنی ہو اور اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو تو سائل کی بیوی کا مذکور طرز عمل انتہائی نا مناسب اور غلط ہے، اس لئے اس کو چاہیئے کہ اپنے رویہ کو بدلنے کی پوری کوشش کرے ، اگر وہ سائل سے نہ سمجھتی ہو تو سائل کو چا ہیئے کہ بیوی کے والدین اور ان کے خاندان کے بڑوں کو بیچ میں ڈال کر معاملہ کو سلجھانے کی کوشش کرے ،ان شاء اللہ مفید ہو گا، تاہم اگر تمام تر کوششیں بے سود ثابت ہو جائیں ، سائل اور اس کی بیوی کا نباء حدود اللہ کے مطابق ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل بیوی کو طلاق بھی دے سکتا ہے، مگر حتی المقد ور طلاق دینے میں جلد بازی نہ کرے۔