امامت و جماعت

مسلکی اختلاف کی بنا پر ایک آفس میں دوجماعتیں کرانا

فتوی نمبر :
35426
| تاریخ :
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسلکی اختلاف کی بنا پر ایک آفس میں دوجماعتیں کرانا

ہمارے آفس میں ایک ہی نماز کی جگہ پر الگ الگ ٹائم پر دو جماعتیں کرائی جاتی ہیں، ایک جماعت 01:15 پر اور دوسری جماعت آفس کے کچھ ساتھی بریلوی حضرات 01:40 پر کراتے ہیں، مسلک کی وجہ سے ایک ہی نماز کی جگہ پر دو جماعتوں کا ہونا کیسا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مذکور جگہ اگر باقاعدہ مسجد نہ ہو بلکہ اس کے کسی حصے کو ملازمین کی نماز کےلیے جائے نماز کے طور پر مختص کیا گیا ہو تو اس میں دو جماعتیں کرانے میں اگر چہ کوئی حرج نہیں، مگر مسلکی اختلافات کی وجہ سے الگ الگ جماعت کرانا تفرقہ بازی اور مسلمانوں میں انتشار کا باعث ہونے کی وجہ سے افسوسناک حرکت ہے، اس کے بجائے نمازیوں کو چاہئے کہ باہمی اتفاق سے کسی متبع سنت اور باشرع شخص کی اقتداء میں ایک ہی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کا اہتمام کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن اھ (1/ 552)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ويكره) أي تحريما لقول الكافي لا يجوز والمجمع لا يباح وشرح الجامع الصغير إنه بدعة كما في رسالة السندي (قوله بأذان وإقامة إلخ) عبارته في الخزائن: أجمع مما هنا ونصها: يكره تكرار الجماعة في مسجد بأذان وإقامة، إلا إذا صلى بهما فيه أولا غير أهله، لو أهله لكن بمخافتة الأذان، ولو كرر أهله بدونهما أو كان مسجد طريق جاز إجماعا؛ كما في مسجد ليس له إمام ولا مؤذن ويصلي الناس فيه فوجا فوجا، فإن الأفضل أن يصلي كل فريق بأذان وإقامة على حدة كما في أمالي قاضي خان اهـ ونحوه في الدرر، والمراد بمسجد المحلة ما له إمام وجماعة معلومون كما في الدرر وغيرها. قال في المنبع: والتقييد بالمسجد المختص بالمحلة احتراز من الشارع، وبالأذان الثاني احترازا عما إذا صلى في مسجد المحلة جماعة بغير أذان حيث يباح إجماعا. اهـ. ثم قال في الاستدلال على الإمام الشافعي النافي للكراهة ما نصه: ولنا «أنه - عليه الصلاة والسلام - كان خرج ليصلح بين قوم فعاد إلى المسجد وقد صلى أهل المسجد فرجع إلى منزله فجمع أهله وصلى» ولو جاز ذلك لما اختار الصلاة في بيته على الجماعة في المسجد ولأن في الإطلاق هكذا تقليل الجماعة معنى، فإنهم لا يجتمعون إذا علموا أنهم لا تفوتهم. (1/ 552) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35426کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات