ایک آدمی نے اپنی زندگی میں زمین خرید کر مسجد کیلئے وقف کر دی اور اپنی زندگی میں ہی اس کی تعمیر کروائی اور اس مسجد کے اخراجات بھی ادا کرتے رہے،اب ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے ،جو اس مسجد کی کمیٹی کے ممبر بھی ہیں، مسجد کے دروازے پر اپنے والد کے نام کی تختی لگانا چاہتے ہیں، تاکہ مسجد پر کسی کا قبضہ وغیرہ نہ ہو اور ان کے والد کا نام بھی لوگوں میں باقی رہے،سوال یہ ہے کہ :
(1)کیا نام کی تختی لگانا صحیح ہے؟
(2) کیا اس سے ان کے والد کے اجر میں کوئی فرق آئے گا؟ جیسا کہ وہاں کے امام صاحب نے کہا ہے کہ اس سے تمہارے والد کا اجر ختم ہوجائے گا ۔
(3) کیا اس تختی کے لگانے سے اولاد کے حق میں کوئی برائی آئے گی،جیسا کہ وہاں کے امام صاحب نے ان کو کہا ہے کہ تختی لگانا تمہارے حق میں بہتر نہیں۔
سائل اگر مسجد کے حقیقی واقف اور بانی کے طور پر اپنے والدِ محترم کے نام کی تختی لگانا چاہے،جس سے مرحوم کا نام اس صدقۂ جاریہ میں باقی رہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں اور نہ ہی اس کی وجہ سے والد کے اجر میں کوئی کمی آئے گی، اور اس عمل کی وجہ سے سائل یا اس کے اہلِ خانہ کو برائی پہنچنے کی بات کرنا بھی بے اصل ہے۔
کما فی الدر المختار: (ولاباس بنقشه خلا محرابه) فانه یکرہ(الیٰ قوله) وظاھرہ ان المراد بالمحراب جدار القبلة فلیحفظ(بجص وماء ذھب) لو(بماله) الحلال (لامن مال الوقف) فانه حرام اھ (1/658)۔
وفی الھندیة: ولایکرہ نقش المسجد بالجص وماء الذھب کذا فی التبیین وھذا اذا فعل من مال نفسه اھ(1/109)۔
وفی الھدایة: ولاباس بان ینقش المسجد بالجص والساج وماء الذھب(الیٰ قوله) وھذا اذا فعل من مال نفسه الخ(1/286)۔