السلام علیکم ورحمۃاللہ و برکاتہ !
میں ایک وکیل کی حیثیت سے یہ سوال کر رہا ہوں،کیا عورت کورٹ کے ذریعے اپنے شوہر سے طلاق لے سکتی ہے یا نہیں ؟ کیا میں ایسا کیس ( مقدمہ) اٹھا سکتا ہوں/ لڑسکتا ہوں یا نہیں ؟
طلاق لینے کے لئے عورت کو کورٹ جانے کی تو ،حاجت نہیں ، اگر کوشش کے باوجود نباہ ممکن نہ ہو سکے تو شوہر سے عورت خود طلاق کا مطالبہ کر کے طلاق لے سکتی ہے، تاہم اگر نباہ کی کوئی صورت بھی نہ بن رہی ہو جس میں قصور شوہر کی طرف سے ہو ، اورشوہر عورت یا برادری کے کہنے پر طلاق بھی نہ دے رہا ہو تو ایسی مجبوری میں عورت عدالت کا دروازہ کھٹکا سکتی ہے ، اور ایسی مظلومہ عورت کا مقدمہ لڑنانہ صرف جائز بلکہ باعث اجر بھی ہو گا۔
كما في الدر : ولا بأس به عند الحاجة للشقاق بعدم الوفاق (بما يصلح للمهر) بغير عكس كلي لصحة الخلع بدون العشرة وبما في يدها وبطن غنمها وجوز العيني انعكاسها
وفي الرد : تحت (قوله للشقاق) أي لوجود الشقاق وهو الاختلاف والتخاصم وفي القهستاني عن شرح الطحاوي: السنة إذا وقع بين الزوجين اختلاف أن يجتمع أهلهما ليصلحوا بينهما، فإن لم يصطلحا جاز الطلاق والخلع اھ (3/441)۔