میرے شوہر نے بروز جمعہ 2018 نومبر 23کو غصہ کی حالت میں پانچ بار یہ کہا کہ تم میری طرف سے آزاد ہو، نکلو گھر سے مجھے تم کو رکھنا ہی نہیں ہے، میں چار ماہ کے حمل سے ہوں، کیا طلاق واقع ہو گئی ہے ؟
واضح ہو کہ حالت حمل میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ اس لئے سائلہ کے شوہر نے جب اسے پانچ مرتبہ یہ الفاظ " تم میری طرف سے آزاد ہو الخ" بول دیے ہیں، تو اس سے سائلہ پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا ہے، اور بغیر حلالۂ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس پر لازم ہے کہ فوراً اپنے شوہرسے علیحد گی اختیار کرے، جبکہ سائلہ ایامِ عدت جو صورت مسئولہ میں وضع حمل( بچے کی پیدائش تک کا زمانہ )ہے گزرنے کے بعددوسری جگہ عقدِ نکاح کرنے بھی میں شرعاً آزاد ہے۔
قال الله تعالى :فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَیۡرَهُۥۗالآية ( البقرة آيت (229,230)
کمافی الصحیح البخاری :وقال الليث عن نافع كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال لو طلقت مرة أو مرتين فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك (292/2)
وفي الدر المختار: (وحل طلاقهن)أي الآيسة والصغيرة والحامل اھ (232/3)
وفي الهداية: وان كان الطلاق ثلاثا في الحرة أوثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها اويموت عنها اھ(399/2)