جب بھی کوئی انسان کسی دوسرے کی طلاق کا ذکر کرتا ہے میرے ساتھ یاکسی اور کے ساتھ ایسی باتیں کرتا ہے اور ان باتوں میں اگر میں بھی شریک ہو جاؤ ں تو باتیں ختم ہوجانے کے بعد مجھے ایسے وسوسے ہوتے ہیں کہ کہیں ان ساری باتوں کے درمیان میرے منہ سے ایسے الفاظ نہ نکل گئے ہو جن کی وجہ ہمارے رشتہ میں کوئی مسئلہ ہو جائے ؟ پو چھنا یہ تھا کہ انسان کو کتنا فیصد یاد ہو اور یقین ہو اپنی بات کا کہ اس نے ایسا بولا تھا یا نہیں۔
واضح ہو کہ محض شک یا طلاق کا خیال آنے یا وسوسوں سے طلاق واقع نہیں ہوتی ،جب تک زبان سے طلاق کے الفاظ یقینی طور پریا غالب اندازے کے مطابق ادا نہ کئے جائیں یا تحریر نہ کئے جائیں ، لہذا جب تک یقین نہ ہو ، طلاق واقع نہیں ہوتی ، لہذا سائل کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، چنانچہ آئندہ ایسے مذاکرہ سے بھی گریز کرنا چاہئے جس کی وجہ سے اس کے خیالات آتے ہیں اور پریشانی ہوتی ہے۔
کمافي الدر المختار: واصله زوج عاقل بالغ مستيقظ ، وركنہ لفظ مخصوص اهـ (٣/٢٣٠)
وفیہ ایضاً : علم أنه حلف ولم يدر بطلاق أو غيره لغا كما لو شك أطلق أم لا.اهـ (۳/۲۸۳)
وفي الشامية : تحت (قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس اھ(3/224).