میں ایک سوال پوچھنا چاہتی ہوں ، اور مجھے اس کا ار جنٹ جو اب درکار ہے۔
اگر کسی عورت کو حالت حمل میں تین طلاقیں دی گئیں ہوں، تو کیا یہ طلاقیں شرعا واقع ہو جاتی ہیں ؟ایسی طلاقوں کی شرعا کیا حیثیت ہے ؟ ایسی صورت میں بچےکی پیدائش کے بعد میاں بیوی میں دوبارہ صلح اور ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش ہے ؟ تینوں طلاقیں شوہر کی طرف سے تحریری طور پر دی گئیں، پہلی طلاق کا نوٹس جون 2018 میں بھیجا گیا، اور دو سر انوٹس جولائی 2018 میں بھیجا گیا اور اس نوٹس میں شوہر نے تین طلاقیں دے دیں، اور یہ آخری نوٹس تھا۔ نومبر 2018 میں بچہ پیدا ہوا۔اب ہماری رہنمائی کیجئے کہ کیا اب بچے کی پیدائش کے بعد میاں بیوی کیلئے دوبارہ ساتھ رہنے کی کوئی گنجائش ہے ؟ جزاک اللہ !
واضح ہو کہ حالت حمل میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں جب مذکورعورت کی شوہرنے ایک تحریری طلاق دینے کے ایک مہینہ بعد دوبارہ تین طلاقیں لکھ کر بھیج دی ہیں، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اور چوتھی طلاق محل نہ ہونے کی وجہ سے لغو ہوگئی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، اور عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔اورحلالۂ شرعیہ یہ ہےکہ عورت ایام عدت کے بعدبغیرکسی شرط کےکسی دوسرےشخص سے اپناعقدنکاح کرے،ایساکرنے سے وہ دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی ،اب اگروہ دوسراشخص بھی اسے ایک مرتبہ کی ہمبستری (جو کہ حلالۂ شرعیہ کےتحقق کےلئےضروری ہے)کےفوراً بعدیا پھرازدواجی زندگی کےکچھ عرصہ بعدطلاق دیدے،یا طلاق تونہ دے مگراس کاپہلے انتقال ہوجائے،بہرصورت اس کی عدت گزارنے کےبعداگروہ پہلےشوہرکےعقدنکاح میں آنا چاہے،اورپہلاشوہربھی اس کورکھنے پر رضامندہو،تونئے مہر کےساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں باقاعدہ ایجاب وقبول کے ساتھ دوبارہ عقدِنکاح کرکےباہم میاں بیوی کی حیثیت سےزندگی بسرکرسکتے ہیں،تاہم حلالہ اس شرط کےساتھ کرناکہ زوجِ ثانی ہمبستری کے بعد بیوی طلاق دےگا،تاکہ زوج ِاول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرے،یہ مکروہ تحریمی ہے،اس پر احادیثِ مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،البتہ اگرحلالہ مذکورشرط کے بغیرہوتوبلاشبہ جائزاوردرست ہے۔
قال اللہ سبحانه وتعالیٰ: وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَنْ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ(الطلاق الآیه:4)
قال اللہ سبحانه وتعالیٰ: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ(البقرہ :230)
و فی المصنف لابن أبي شيبة : " عن الحسن ومحمد قالا : إذا كانت حاملاً طلقها متى شاء - ( ما قالوا فى الحامل كيف تطلق ، ۱۳۰۹ ۵ رقم : ۱۸۰۳۵) –
وفي السنن الدار قطني : عن عائشة قالت : قال رسول الله الله : إذا طلق الرجل امرأته ثلاثاً، لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره، ويذوق كل واحد منهما عسيلة صاحبه - ( ط بیروت ۲۱/۳)
و في الهداية : وإن كان الطلاق ثلاثاً في الحرة، وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجاً غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها، ثم يطلقها، أو يموت عنها
اھ (۳۹۹/۲) -