میں نے کچھ عرصہ پہلے بیوی کو طلاق دی ، اس سے میرا ایک بیٹا ہے، اور وہ میرے پاس رہتا ہے، اور ہم سب اسکی دیکھ بھال کررہے ہیں، لیکن اپنے بچے کی محبت اور اس غم میں کہ بچے سے اس کی ماں الگ ہوگئی، میں شدید ڈپریشن کا شکار ہو گیا تھا، میری مدد اور ماحول کی تبدیلی اور چیزوں کو بہتر کرنے کیلئے دوسری شادی کروائی گئی، لیکن میں ڈپریشن سے نکلنے کے بجائے مزید ڈپریشن کا شکار ہو گیا، اور اسی عالم میں فون پر لڑکی کو تین بار طلاق کا کہہ دیا، یہ بات جانتے ہوئے کہ اس پورے معاملے میں لڑکی کا کوئی قصور نہیں ہے، یہاں تک کہ ہمبستری بھی نہیں ہوئی ہم دونوں کے بیچ ابھی تک ، لڑکی اور میرے گھر والوں کا کہنا ہے کہ ایسی حالت میں طلاق نہیں ہوتی، میں بہت زیادہ ڈپریشن کا شکار ہوں ، اور ڈاکٹر حضرات مجھے ہسپتال میں ایڈمیٹ ہونے کا کہہ رہے ہیں، کیا اس حالت میں دی گئی طلاق ہوجاتی ہے۔
سائل اور اس کی منکوحہ کے درمیان اگر خلوت میں ملاقات نہ ہوئی ہو، اور تین طلاقوں کے الفاظ بھی علیحدہ علیحدہ اس طرح بولے ہوں کہ " طلاق طلاق طلاق“وغیرہ تو پہلی ایک طلاقِ بائن واقع ہو کر دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے، جبکہ بقیہ دو طلاقیں محل نہ ہونے کی وجہ سے غیر مؤثر ہوئی ہیں، لہذا سائل اور اس کی بیوی دوبارہ میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا چاہیں تو تجدیدِ نکاح کے بعد میاں بیوی کی طرح زندگی گزار سکتے ہیں ، مگر سائل کو آئندہ صرف دو طلاقوں کا اختیار رہے گا، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے گا تو اس کی بیوی حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی، تاہم سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اسکی مکمل وضاحت کرکے سوال دوبارہ ای میل کر دے، اس پر غور و فکر کے بعد ان شاء اللہ حکمِ شرعی سے آگاہ کیا جائے گا۔
کمافي الفتاوى الهندية : (الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول) إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة وذلك مثل أن يقول أنت طالق طالق طالق اھ (1/373)۔
وفی الدرالمختار: (والخلوة) مبتدأ خبره قوله الآتي كالوطء (بلا مانع حسي) كمرض لأحدهما يمنع الوطء (وطبعي) كوجود ثالث عاقل ذكره ابن الكمال، وجعله في الأسرار من الحسي، وعليه فليس للطبعي مثال مستقل (وشرعي) كإحرام لفرض أو نفل.(3/114)
وفیه ایضاً: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) بخلاف الموطوءة حيث يقع الكل(2/286)