ہم امریکہ میں رہتے ہیں ، ۲۱ نومبر ۲۰۱۸ کو میر ابچہ پیدا ہوا، سات دن بعد ۲۹ نومبر ۲۰۱۸ کو میرے شوہر اپنے ساتھ دو گواہ لائے اور انہوں نے مجھے کہا( I want to divorce you) تین بار اور پھر وہ چلے گئے ، مطلب کہ انہوں نے کہا کہ " میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں " یہ نہیں کہا کہ ( I divorce you) یعنی کہ "میں نے تمہیں طلاق دی " میں اس وقت ناپاکی کی حالت میں تھی ، تب سے میں اپنے والدین کے گھر پر رہ رہی ہوں ، اور ان سے رجوع کرنے کی کوشش کر رہی ہوں ، اب میرے شوہر رجوع کرنے کے لئے راضی ہو گئے ہیں، مگر وہ لکھا ہو افتوی چاہتےہیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟کیار جوع کرنے کا کوئی طریقہ ہے ؟ جزاک اللہ !
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً بھی درست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی طرح کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا ہو، اس طور پر کہ سائلہ کے شوہر نے یہ کہا ہو کہ "میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں " اور ساتھ آنے والے گواہ بھی اس پر متفق ہوں ، تو سائلہ کے شوہر کے ان الفاظ " میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں " سے سائلہ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، لہذا سائلہ اور اس کا شوہر حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتےہیں۔ تاہم سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کو دوبارہ لکھ کر مکرر سوال کر کے حکم شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
كما في فتاوى تاتارخانيه : ولو قال اردت طلاقك لا يقع اھ ( ج ٣ ص ٢٦٢)