میں طلاق تفویض کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں، کیا یہ اسلام میں صحیح ہے ؟ اگر طلاق تفویض ہو تو مہر کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ کیا عورت اپنا مہر اور تحفے شوہر کو واپس کرے گی، جب وہ اپنے شوہر کو طلاق دے ؟ براہِ کرم جواب دیں اور حدیث کا حوالہ بھی دیں ؟
شوہر یا اس کا وکیل بیوی کو یا پھر کسی تیسرے فرد کو طلاق واقع کرنے کا اختیار دیدے اور بیوی یا وہ تیسرا فرد اسی مجلس میں اس تفویض کو قبول کرلے تو بیوی اور اس شخص کو طلاق واقع کر نیکا شر عاً بھی حق حاصل ہو جائیگا اور اس تفویض کو استعمال کرتے ہوئے بیوی اگر اپنے اوپر طلاق واقع کر دے تو یہ طلاق واقع ہو جائیگی اور طلاق کی صورت میں مہر اور جو تحفے تحائف وغیرہ مالکانہ تصرف و قبضہ کے ساتھ بیوی کو دیے گئے ہوں، ان کا واپس کرنا بیوی کے ذمہ شرعاً لازم نہیں اور نہ ہی شوہر اس کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
کمافی الصحیح لمسلم: أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ، بَدَأَ بِي، فَقَالَ: «إِنِّي ذَاكِرٌ لَكِ أَمْرًا، فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْكِ»، قَالَتْ: قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ، قَالَتْ: ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا} [الأحزاب: 29] "، قَالَتْ: فَقُلْتُ: فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي أُرِيدُ اللهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ(2/1103)۔
وفیه ایضاً: عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «خَيَّرَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاخْتَرْنَاهُ، فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلَاقًا»(2/1104)۔
وفی الدرالمختار: باب تفويض الطلاق لما ذكر ما يوقعه بنفسه بنوعيه ذكر ما يوقعه غيره بإذنه. وأنواعه ثلاثة: تفويض، وتوكيل، ورسالة وألفاظ التفويض ثلاثة: تخيير وأمر بيد، ومشيئة. اھ (3/314)۔
وفی ردالمحتار: تحت قوله (تفویض الطلاق) :أي تفويضه للزوجة أو غيرها صريحا كان التفويض أو كناية، يقال: فوض له الأمر: أي رده إليه حموي اھ (3/314)۔
وفی بدائع الصنائع: ويستوي فيما ذكرنا من الصريح والكناية والرجعي والبائن أن يكون ذلك بمباشرة الزوج بنفسه بطريق الأصالة أو بغيره بإذنه أو أمره. وذلك نوعان: توكيل، وتفويض أما التفويض فنحو قول الرجل لامرأته: أمرك بيدك وقوله اختاري، وقوله أنت طالق إن شئت، وما يجري مجراه وقوله: طلقي نفسك. الخ(3/113)
وفی الھندیة: (ومنها الزوجية) سواء كان أحد الزوجين مسلما أو كافرا، كذا في الاختيار شرح المختار. وإذا وهب أحد الزوجين لصاحبه لا يرجع في الهبة، وإن انقطع النكاح بينهما اھ (4/386)۔