میں نے اپنی بیوی کو تین بار ایک ساتھ طلاق دی جبکہ اس کا حمل تھا ،کیا وہ طلاق واقع ہوگئی ؟لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ طلاق نہیں ہوئی ، براہِ مہربانی اس کا فتوی جلد ازجلد ارسال کریں ۔
نوٹ :سائل سے تنقیح کرنے پر معلوم ہوا کہ سائل نے یہ الفاظِ طلاق استعمال کیے ہیں "میں اللہ کو حاضر جان کر تمہیں طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ،طلاق دیتا ہوں ۔
حالتِ حمل میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق اقع ہوجاتی ہے , لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ،اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا،اس لئے دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،جبکہ عورت ایامِ عدت کے بعد اپنی مرضی سے کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
کمافی الفقه الحنفی وادلته:من طلق ثلاثا مجموعة بانت امراته منه واثم اھ (2/212)۔
وفیه ایضاً:والمبانة بالثلاث لاتحل له حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً ویدخل بھا ثم تبین منه اھ (2/241) -