السلام علیکم !
اگر کسی کی بیوی , کسی غیر مسلم سے ناجائز تعلقات قائم کرلے تو کیا اسی کو خود بخود طلا ق ہوجاتی ہے ؟اور ایسی عورت کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیئے ۔
اگرچہ سائل کی بیوی اپنی مذکور ناجائز حرکت کی وجہ سے سخت گناہ گار ہوئی ہے اس پر , اپنے اس شنیع فعل کی بنا پر ندامت کے ساتھ بصدق دل توبہ واستغفار اور آئندہ کیلئے اس سے مکمل احتراز لازم ہے ،مگر اس سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور نہ ہی ایسی عورت کو طلاق دینا لازم ہے ،تاہم ایسی عورت کو مناسب طریقہ سے, نرمی یا سختی سے سمجھا کر اس گناہ سے روکنے کی کوشش لازم ہے ،جبکہ باز نہ آنے پر اس سے علیحدگی کی جاسکتی ہے ۔
کما فی الدر المختار: لو زنت المرأة لا يقربها زوجها حتى تحيض لاحتمال علوقها من الزنا فلا يسقي ماؤه زرع غيره اھ (3/527)۔
وفیہ ایضاً:لا يجب على الزوج تطليق الفاجرة ولا عليها تسريح الفاجر إلا إذا خافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس أن يتفرقا اھ (3/50)۔