کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ میں کہ اگر ایک بہو اپنےسسر پر کسی غلط عمل کی تہمت لگائے اور سسر اس بات کا یقین دلائے کہ ایسی کوئی نازیبا حرکت اس کی طرف سے نہیں ہوئی ، دونوں اپنی بات پر قائم رہیں تو اس صورت میں کیا عمل بہتر ہے؟ نیز سسر قسم بھی کھائے اور قرآن پر ہاتھ رکھ کر بولے کہ میں نے ایسا نہیں کیا اور بہو بھی قسم کھائے کہ میرے ساتھ ہوا ہے، پھر فیصلہ کیا ہونا چاہیئے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں حوالہ کے ساتھ آگاہ کریں، مزید یہ بتائیں کہ بہو الگ رہتی ہے، مگر شوہر اور بچوں کے ساتھ اکثر گھر آتی ہے، مگر سسر کا سامنا پسند نہیں کرتی، جس کی وجہ سے وہ عورت اپنے شوہر کا اس کے گھر والوں سے ملنا جلنا ختم کروانا چاہتی ہے اور خود بھی ان کا اپنے گھر آنا اور سسرال جانا ناگوار گزرتا ہے،اس موضوع پر اکثر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوتا ہے، جس میں وہ عورت اپنے سسرال والوں کیلئے نامناسب الفاظ بھی بولتی ہے، اور شوہر سے زبان درازی اور ہاتھ کا استعمال بھی کرتی ہے، جیسے گریبان پکڑ کر دھکے دینا اور نوچنا، اسکے تین چھوٹے بچے ہیں، جس کی وجہ سے شوہر بیوی کو طلاق نہیں دیتا اور فلاح کا رستہ نکالنے کی کوشش میں ہے، اس کے ماں باپ چھوٹے بھائی کے ساتھ الگ رہتے ہیں، صرف اس لئے برداشت کرتا ہے کہ بچوں کا ساتھ ہے، ورنہ شاید یہ معاملہ ختم ہو چکا ہوتا، بیوی کے پاس کوئی گواہ موجود نہیں اور نہ ہی سسر کے پاس، گھر والوں کا کہنا ہے کہ سسر کی زبان تھوڑی تیز ہے اور اکثر جملے کہہ جاتے ہیں، جن میں کوئی بے حیائی کا عنصر نظر نہیں آتا، مثلاً آج تو بڑی اچھی لگ رہی ہو، اپنے ہاتھ کی میٹھی چائے پلا ئیں گی وغیرہ، مگر بہو کا الزام ہے کہ وہ اشارے بھی کرتے ہیں، جو کسی نے آج تک نہیں دیکھے، اس کا ہاتھ پکڑتے ہیں وغیرہ،ان باتوں کے ثبوت پاس نہیں اور دونوں کے درمیان کے معاملات اللہ جانتا ہے، بہو کا رویہ شروع دن سے سسرال کو پسند نہیں، اور یہی کوشش کی کہ شوہر کوالگ کر دیں، والدین نے وہ بھی مان لیا،مگر سرے سے تعلق ختم کر دیں ,کیا جواز ظاہر کرتا ہے ؟ میں نے آپ کو دونوں فریقوں کی تفصیل بیان کر دی ہے، آپ سے گزارش ہے کہ اس مسئلہ کا حل ایسا بتادیں کہ دونوں خاندانوں میں نا اتفاقی بھی نہ ہو اور نباہ کی کوئی صورت نکل آئے۔
واضح ہو کہ محض عورت کے دعوی سے حرمتِ مصاہرت ثابت نہیں ہوتی، حرمتِ مصاہرت کے ثبوت کیلئے شرعی شہادت یا سسر کا اقرارِ جرم یا پھر جو واقعہ عورت بیان کرتی ہے، اس کی تصدیق اس کا شوہر کرے تو ایسی صورت میں حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جاتی ہے، ایسی عورت اپنے شوہر پر ہمیشہ کیلئے حرام ہو جاتی ہے، مگر صورتِ مسئولہ میں نہ عورت کے پاس کوئی گواہ اور ثبوت ہے اور نہ ہی سسر اس بات کا اقرار کرتا ہے اور نہ ہی عورت کے شوہر کو عورت کی بات پر اعتماد ہے، محض ایک الزام ہے، اس لئے حرمتِ مصاہرت کا حکم لگانا مشکل ہے، البتہ عورت کو اپنے دعوی پر اعتماد ہو تو فریقین علاقے کے معتبر علماء کے پاس اس مسئلے کو پیش کر کے ان سے حکمِ شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
كما فی رد المحتار: (قوله: وحرم أيضا بالصهرية أصل مزنيته) قال فی البحر: أراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما فی الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها. اهـ. (3/ 32)
و فی الهندية: رجل تزوج إمرأة على أنها عذراء فلما أراد وقاعها وجدها قد افتضت فقال لها من افتضك؟ فقالت: أبوك إن صدقها الزوج، بانت منه ولا مهر لها وإن كذبها فهي إمرأته. كذا فی الظهيرية۔ (1/276)
وفیھا ایضاً: لو إدعت المرأة أن مس ابن الزوج إياها كان عن شهوة لم تصدق والقول قول ابن الزوج. كذا فی السراج الوهاج۔(1/276)
وفیھا ایضاً: رجل قبل إمرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب إمرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة وأنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج، وإن صدقه الزوج وقعت الفرقة ويجب المهر على الزوج اھ ۔(1/276)