مفتی صاحب میرا نام عادل ہے اور میں آپ سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتا ہواگر کوئی شخص اس طرح کہے کہ " میں نے طلاق کو نکاح سے مشروط کر دیا ہے‘‘ کیا اس طرح کہنے سے طلاق واقع ہوتی ہے برائے مہربانی رہنمائی کرے۔
محض یہ کہنے سے " میں نے طلاق کو نکاح کے ساتھ مشروط کر دیا ہے "شر عاطلاق واقع نہیں ہوتی ، لہذا سائل کو بلا وجہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ، البتہ اگر مذکور شخص نے شرطیہ الفاظ طلاق استعمال کئے ہوں ، تو اس کی تفصیل لکھ کر حکم شرعی معلوم کیا جاسکتا ہے۔
کمافی ردالمحتار: (قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ.(3/248)
وفی الھدایة: " وإذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح مثل أن يقول لامرأة إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق "(1/243)