میں نے ۲۸۔ ۱۰۔۲۰۱۸ کو اپنی زوجہ کو مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ لکھ کر طلاق بھیجی ” میں آپ کو اپنی ازدواجی نکاح سے رخصتی دیتا ہوں“ تین دن بعد بات ہوئی لیکن مسئلہ حل نہیں ہوا ،۵۔ ۷۔۲۰۱۹ اور ۱۴۔۷۔ ۲۰۱۹ کو ملاقات ہوئی اور رجوع کے بارے میں بات فائنل ہو گئی، اب ہم رجوع کا طریقہ اور مسئلہ کا حل پوچھنا چاہتے ہیں ،اور یہ بات میں حلفیہ کہہ سکتا ہوں کہ اس ایک طلاق کے علاوہ میں نے کوئی اور طلاق نہیں دی ہے۔
سائل کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا ہو اس طور پر کہ اس نےاپنی بیوی کوصرف سوال میں مذکور خط کشیدہ الفاظ بھیج دیئے ہوں تو اس کی وجہ سے سائل اور اس کی بیوی کے درمیان اگر چہ نکاح ختم ہو چکاہے ، تاہم اگر دوبارہ میاں بیوی کی طرح زندگی گزار نا مقصود ہو تو ر جوع نہیں بلکہ دوبارہ گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے ساتھ نکاح کر نالازم ہے ، تاہم اس نکاح کے بعد سائل کو آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار حاصل ہو گا، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدے تو اس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائیگی، اسلئے طلاق کے معاملہ میں احتیاط لازم ہے۔
کمافی الفتاوی الشامیة: وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية اھ (3/252)
وفی الھندیة: ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة اھ(1/387)
وفی الھدایة: فالأحسن أن يطلق الرجل امرأته تطليقة واحدة في طهر لم يجامعها فيه ويتركها حتى تنقضي عدتها " لأن الصحابة رضي الله عنهم كانوا يستحبون أن لا يزيدوا في الطلاق على واحدة حتى تنقضي العدة فإن هذا أفضل عندهم من أن يطلقها الرجل ثلاثا عند كل طهر واحدة ولأنه أبعد من الندامة وأقل ضررا بالمرأة ولا خلاف لأحد في الكراهة.(1/221)