کیا بالغ طلاق یافتہ عورت ویڈیو کال پر ولی اور کرایہ کے گواہوں سے نکاح کرسکتی ہے؟
کیا ایک ہی مجلس میں غصہ میں آکر شوہر کہے"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،آئندہ مجھے اپنی شکل نہ دکھانا ، یہ ایک طلاق ہوگی یا تین ؟ خیال رہے کہ شوہر اہلِ حدیث ہےاور بیوی دیوبندی؟
(1)واضح ہوکہ صحتِ نکاح کے لئے متعاقدین یا ان کے وکیلوں اور گواہوں کا مجلسِ نکاح میں موجود ہونا ضروری ہے،اگر لڑکا یا لڑکی یا گواہ الگ الگ مجالس میں دوسری جگہ ہوں اور ویڈیو کال کے ذریعہ ایجاب وقبول کیا جائے تو اس سے شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا۔
(2) ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں خواہ ایک جملے سے دی ہوں یا الگ الگ جملوں سے،اس سے تین ہی طلاقیں واقع ہوں گی،اس پر صحابہ کرام(رضوان اللہ علیہم اجمعین) کا اتفاق ہے اور ائمۂ اربعہ(امام ابوحنیفہ امام شافعی، امام مالک، امام احمد بن حنبل ( رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین) کا بھی یہی مسلک ہے اور اس پر امت کا تعامل بھی ہے،لہذا تین طلاقیں دینے کے بعد غیر مقلدوں سے فتوی لیکر بغیر حلالۂ شرعیہ کے مطلقہ عورت کو بیوی بنا کر رکھنا ناجائز اور حرام ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
کمافی الفتاوی الھندیة: (ومنها) أن يكون الإيجاب والقبول في مجلس واحد حتى لو اختلف المجلس بأن كانا حاضرين فأوجب أحدهما فقام الآخر عن المجلس قبل القبول أو اشتغل بعمل يوجب اختلاف المجلس لا ينعقد وكذا إذا كان أحدهما غائبا لم ينعقد حتى لو قالت امرأة بحضرة شاهدين زوجت نفسي من فلان وهو غائب فبلغه الخبر فقال: قبلت، أو قال رجل بحضرة شاهدين: تزوجت فلانة وهي غائبة فبلغها الخبر فقالت زوجت نفسي منه لم يجز وإن كان القبول بحضرة ذينك الشاهدين وهذا قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى۔ اھ(1/269)۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَاتَحِلَّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (البقرۃ:230)۔
وفی أحکام القرآن للجصاص: قال أبو بكر قوله تعالى الطلاق مرتان فإمساك بمعروف أو تسريح بإحسان الآية يدل على وقوع الثلاث معا مع كونه منهيا عنها وذلك لأن قوله الطلاق مرتان قد أبان عن حكمه إذا أوقع اثنين بأن يقول أنت طالق أنت طالق في طهر واحد وقد بينا أن ذلك خلاف السنة فإذا كان في مضمون الآية الحكم بجواز وقوع الاثنتين على هذا الوجه دل ذلك على صحة وقوعهما لو أوقعهما معا لأن أحدا لم يفرق بينهما وفيها الدلالة عليه من وجه آخر وهو قوله تعالى فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره فحكم بتحريمها عليه بالثالثة بعد الاثنتين ولم يفرق بين إيقاعهما في طهر واحد أو في أطهارفوجب الحكم بإيقاع الجميع على أي وجه أوقعه من مسنون أو غير مسنون ومباح أو محظور اھ(2/83)۔
و فی الھندیة : و ان کان الطلاق ثلاثا فی الحرۃ و ثنتین فی الامة لم تحل له حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحا و یدخل بھا ثم یطلقھا او یموت عنھا اھ (1/473)۔