امامت و جماعت

تکبیراتِ انتقال یا دیگر مواقع میں مقتدی کا امام کو لقمہ-فتحہ دینے کی تفصیلات

فتوی نمبر :
38169
| تاریخ :
2019-09-05
عبادات / نماز / امامت و جماعت

تکبیراتِ انتقال یا دیگر مواقع میں مقتدی کا امام کو لقمہ-فتحہ دینے کی تفصیلات

کیا فرماتے ہیں علماء درج ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
۱۔ امام نے اپنے آپ کو منفرد گمان کیا اور تکبیرِ رکوع سراً کہی یا ترک کر دی اور رکوع میں چلا گیا اس کے بعد بعض مقتدیوں نے لقمہ دیا اور امام کو یاد آ گیا کہ امامت کرا رہا ہے تو ایسی صورت میں امام لقمہ قبول کرےگا یا نہیں؟ اگر لقمہ قبول کیا تو کیا حکم ہوگا؟
۲۔مذکورہ صورت میں اکثر مقتدیوں نے رکوع ترک کر دیا تھا ، تو کیا امام ان کو دوبارہ جماعت سے نماز پڑھا سکتا ہے؟
۳۔امام تکبیرِ انتقال کہے بغیر ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف چلا جائے ، پھر مقتدی لقمہ دے اور امام قبول نہ کرے تو مقتدی کوکیسے علم ہوگا ، نیز امام مقتدی کو باخبر کس طرح کرسکتا ہے؟
۴۔ہمارے یہاں کئی نمازی مسائلِ نماز سے نا آشنا ہیں، محلِ تکبیر اگرچہ فوت ہو جائے ، امام جب تک تکبیرِ انتقال نہیں بولےگا وہ رکن ادا نہیں کرتے ، تو اب عند الشرع جو رکن شروع ہو چکا اس میں امام تکبیرِ انتقال بول سکتا ہے یا نہیں؟ نیز مقتدی لقمہ دے سکتا ہے یا نہیں؟ اور لقمہ دینے پر امام قبول کرسکتا ہے یا نہیں؟
۵۔نماز کے بعد امام کو علم ہو گیا یا نہیں؟ نیز وہی نماز دوبارہ امام پڑھا سکتا ہے یا نہیں؟
۶۔کیا نماز کے کسی مسئلہ میں صرف لقمہ دینے اور امام کے لقمہ قبول کرنے سے سجدۂ سہو واجب ہو جاتا ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

(۱، ۴) امام کا تکبیراتِ انتقال ترک کرنے یا سراً کہنے پر مقتدی لقمہ دے سکتا ہے اور وہ لقمہ امام قبول کر سکتا ہے، اگرچہ رکن شروع ہو چکا ہو اور مقتدی کا دیا ہوا لقمہ قبول کرنے سے نماز فاسد نہ ہوگی۔
(۲، ۵) اگر ایک مقتدی کے علاوہ باقی مقتدیوں کی نماز فاسد ہو جائے تو بھی امام کو جماعت کا ثواب ملےگا ، البتہ نماز رکوع ترک کرنے کی وجہ سے جن مقتدیوں کی نماز فاسد ہوئی، پہلی جماعت کا امام انہیں وہی نماز دوبارہ نہیں پڑھا سکتا۔
۳۔اگر امام سے سہو ہوجائے تو مقتدی تسبیح (سبحان اللہ) کہہ کر امام کو باخبر کر دے یا تکبیر وغیرہ جہراً کہہ دے تاکہ دوسرے مقتدی بھی سن لیں اور اگر مقتدیوں نے درست لقمہ دیا ہو تو امام کو لقمہ قبول کرنا چاہیۓ۔
۶۔مقتدی کے لقمہ دینے اور امام کے لقمہ قبول کرنے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الفتاوى الهندية : و لو كبر و لم يرفع يديه حتى فرغ من التكبير لم يأت به و إن ذكره في أثناء التكبير يرفع و إن لم يمكنه إلى الموضع المسنون رفعهما قدر ما يمكن و إن أمكنه رفع إحداهما دون الأخرى رفعها و إن لم يمكنه الرفع إلا بزيادة على المسنون رفعهما . (1/ 73)۔
وفیها أیضاً : (و تسعة أشياء إذا ترك الإمام أتى بها المؤتم) ترك رفع اليدين في التحريمة ، أو الثناء إن كان الإمام في الفاتحة و إن كان في السورة لا عند محمد - رحمه الله تعالى - خلافا للثاني او ترك تكبيرة الركوع أو السجود أو التسبيح فيهما أو التسميع أو قراءة التشهد أو ترك السلام أو تكبيرات التشريق او أتى بالركوع والسجود قبل الإمام في الركعات كلها قضى ركعة بلا قراءة . كذا في الوجيز للكردري . (1/ 90)۔
و فی الفتاوى الهندية : و لا ينبغي للإمام أن يلجئهم إلى الفتح ؛ لأنه يلجئهم إلى القراءة خلفه و إنه مكروه بل يركع إن قرأ قدر ما تجوز به الصلاة و إلا ينتقل إلى آية أخرى . (1/ 99)۔
و فی الفتاوى الهندية : إذا زاد على الواحد في غير الجمعة فهو جماعة و إن كان معه صبي عاقل . كذا في السراجية اھ (1/ 83)۔
و فیها أیضا : و لا اقتداء المفترض بالمتنفل اھ (1/ 86)۔
و فی رسائل ابن عابدین : و أما التحمید من المبلغ و التسمیع من الإمام و تکبیرات الإنتقال إذا قصد بما ذکره الإعلام فقط خالیا عن قصد الذکر فلا فساد اھ (۱/ ۱۴۱)۔
و فی الفتاوى الهندية : و لو عرض للإمام شيء فسبح المأموم لا بأس به ؛ لأن القصد به إصلاح الصلاة (إلی قوله) و لو فتح على غير إمامه تفسد اھ (1/ 99)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
ابوبکر عثمان غنی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 38169کی تصدیق کریں
1     1269
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات