لڑکے اور لڑکی کا نکاح ہوا، مگر رخصتی نہیں ہوئی، اس مدت میں بوس و کنار ہوا۔ کچھ گھریلو جھگڑوں کی بناء پر بات طلاق تک آئی ، طلاق کی بات کی ابتداء لڑکی کی ماں باپ نے کی , لڑکے کو کہا کہ ہم تمہیں طلاق کے پیپرز بھجوا دیں گے ، جس پر تین بار یہ لکھا ہوگا کہ لڑکا اس لڑکی کو طلاق دیتا ہوں ، اس بات پر لڑ کی قطعاْ راضی نہیں تھی ، اس سے بہت زور و زبردستی کر کے ان پیپرز پر سائن کروائے گئے ، لڑکی نے ان پیپر ز کو ڈر کے مارے چھپادیا اور لڑکے تک نہیں بھجوائے، ایک موقع پر لڑکے نے کہا تھا کہ جیسے ہی مجھے پیپرز ملتے ہیں، میں نے سائن کر دینے ہیں، اور ایک موقع پر کہا کہ جب تک لڑکی سائن نہیں کریں گی میں نہیں کرونگا، تقریباً چار مہینے کے بعد لڑکا واپس ملک آیا اور اس نے کہا کہ میں یہ رشتہ ختم کرنا چاہتا ہوں آپ پیپر ز بھجوا دیں، لڑکی نے بہت منت سماجت کی ، مگر لڑکے نے کہا کہ اگر پیپر ز نہیں بھجواؤ گے تو میں زبانی طلاق دے دوں گا، لڑکی نے بحالت ِ مجبوری وہ پہلے سے دستخط شدہ پیپرز لڑکے کو بھجوائے ، جو اس نے سائن کر دیے ، اب سوال یہ ہے کہ
1: یہ طلاق ہے یا خلع ؟
2: کیا صرف لڑکی کے سائن کرنے سے طلاق ہوئی یالڑکے کے سائن کرنے سے ؟ اس طلاق کا ذمہ دار کون ہے ؟
سوال میں درج بیان اگر واقعۃْ درست اور حقیقت پر مبنی ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ مذکور لڑکے اور لڑکی کے درمیان خلوتِ صحیحہ یعنی ایسی تنہائی ہوئی ہو ، جس میں مباشرت کے لئے کوئی رکاوٹ نہ ہو (جیسا کہ سوال سے معلوم ہوتا ہے) اس کے بعد لڑکے نے مذکور تین طلاق کے پیپرز کو پڑھ کر اس پر دستخط کر دیے ہوں، اگر چہ مذکور لڑکی اس پر راضی نہ ہو، تب بھی اس سے مذکور لڑکی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا، چنانچہ عورت عدت گزارنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ شادی کرنے میں آزاد ہے۔
کما فی الشامیة: تحت (قوله طلقت بوصول الكتاب)أی اليها (الى قوله )ولو قال للكاتب : اكتب طلاق امراتى كان اقراراً بالطلاق وان لم يكتب ، ولواستكتب من آخر كتابا بطلاقها وقراه على الزوج فاخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به اليها فاتاها وقع ان اقر الزوج انه كتابه الخ (247/3)
وفي الدر المختار : (والخلوة ( مبتدا و خبره قوله الآتى كالوطء (بلامانع حسی )كمرض لاحدهما يمنع الوطء ( وطبعى) كوجود ثالث (الى قوله) (وشرعي)اھ (114/3) –