میرے شوہر نے مجھے ایک طلاق دے کر گھر سے نکال دیا تھا،بعد میں بچوں کو دھوکے سے بلالیا، ر شتے داروں نے کوشش کی مگر نہیں مانے، پھر انہوں نے رجوع نہیں کیا اور دوسری شادی کر لی، میرے پاس کوئی پیپر نہیں تھا جس سے ثابت ہو کہ مجھے طلاق ہوگئی ہے، جب شوہر سے بولا کہ پیپر دیں تو انہوں نے کہا کہ پہلے بچوں سے دستبردار ہوجاؤ پھر طلاق دوں گا، مگر میں نے یہ شرط نہیں مانی، مجبوراً شناختی کارڈ کے لئے کورٹ سے خلع لینی پڑی، اب تین سال بعد وہ دوبارہ شادی کرنا چاہتے ہیں کیا اب دوبارہ بغیر حلالہ کے نکاح ہو سکتا ہے؟
سائلہ کے شوہر نے ایک طلاق دینے کے بعد دوران عدت رجوع نہیں کیا تھا تو عدت گزرنے کے ساتھ سائلہ اور اس کے شوہر کے درمیان نکاح ختم ہو چکا تھا، جس کے بعد خلع بھی بے معنی ثابت ہوا ہے، اس لئے اب اگر وہ دوبارہ میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا چاہیں تو گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا لازم ہو گا، اور اس نکاح کے بعد سائلہ کے شوہر کے پاس آئندہ صرف دو طلاقوں کااختیار ہو گا، جب کبھی وہ دو طلاقیں بھی دیدیں گے، تو سائلہ اس پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائے گی، اس لئے آئندہ طلاق کے متعلق خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
كما في الدر المختار: (وينكح مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع)۔اھ (3/409)
وفي الهداية: إذا طلق الرجل تطليقة رجعية وتطليقتين فله ان يراجعها۔اھ (2/405)
وفي الهندية: الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين۔اھ (1/468)