ہم تقریباً پندرہ افراد ایک جگہ رہتے اور ڈیوٹی وغیرہ کرتے ہیں، یہاں ایک چھوٹی سی مسجد ہے،جس میں باقاعدہ پانچ وقت اذان اور جماعت کے ساتھ نماز قائم ہوتی ہے، ہمیں یہ مسئلہ درپیش ہے کہ مسجد میں فجر کی نماز کی جماعت کے لۓ ۵:۴۰ کا وقت مقرر کر دیا ہے ، مؤذن ۵:۲۰ پر اذان دیتا ہے، مگر لوگ وقت پر نہیں آتے، اگر صرف دو افراد موجود ہوں اور مقررہ وقت ہو جائے تو کیا ان دو افراد کو جماعت کروانی چاہیۓ یا پھر تیسرے فرد کا اتنظار کیا جائے؟ بعض اوقات صرف مؤذن اکیلا ہی ہوتا ہے اور کوئی دوسرا ابھی نہیں آیا ہو تا کہ جماعت کا مقررہ وقت ہو جاتا ہے، اس صورت میں دو فرد کیا کرے؟ جبکہ وہ اذان دے چکا ہے اور اصل لوگ نیند اور سستی کی وجہ سے جماعت کے مقرر کردہ وقت پر نہیں ، بلکہ لیٹ آتے ہیں؟
جماعت کے لۓ مقررہ وقت پر اگر نمازی موجود نہ ہوں یا ایک دو افراد موجود ہوں تو ایسی صورت میں اگرچہ دو افراد کی جماعت بھی ہو جاتی ہے، لیکن اگر دیگر افراد کے آنے کی توقع ہو تو جماعت کرانے میں کچھ وقت تک تاخیر کرنی چاہیۓ، تا کہ جماعت میں زیادہ سے زیادہ افراد شریک ہو سکیں یا پھر جماعت کے وقت میں اس طرح تبدیلی کی جائے کہ نمازِ فجر کی جماعت طلوعِ آفتاب سے تقریباً آدھا گھنٹہ ، پچیس منٹ قبل کھڑی کی جائے، تو جو لوگ تاخیر سے آتے ہیں وہ بھی شریک ہو سکیں گے۔
فی الدر المختار : (و يجلس بينهما) بقدر ما يحضر الملازمون مراعيا لوقت الندب (إلا في المغرب)الخ (1/ 389)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله إطالة ركوع أو قراءة) و كذا القعود الأخير قبل السلام . و ذكر في السراج أن فيه خلافا ، و أشار إلى أن الكلام في المصلي ، فلو انتظر قبل الصلاة ففي أذان البزازية لو انتظر الإقامة ليدرك الناس الجماعة يجوز لواحد بعد الاجتماع لا إذا كان داعرا شريرا اهـ (1/ 495)۔