اگر کسی شخص نے اپنی بیٹی کو تین طلاق ہو جانے کے باوجود اہلِ حدیث کے فتوے کے مطابق واپس شوہر کے پاس بھیج دیا ہو تو کیا ایسے شخص کے جنازے میں شرکت کرنا حرام ہے ؟ ایسی عورت کی اولاد کا کیا حکم ہے کیا وہ ولدالزنا ہے ؟
واضح ہو کہ تین طلاق ہو جانے کے بعد غیر مقلدین سے فتوی لیکر بیوی کو اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، اور اس فتوی پر عمل کرنا باجماعِ امت نا جائز اور گناہِ کبیرہ ہے لہذا جو شخص اپنی بیٹی کو تین طلاق ہو جانے کے بعد غیر مقلدین کے فتویٰ کی بنا پر اس کو شوہر کے ساتھ بھیج دے تو وہ بھی اس گناہ میں برابر کا شریک ہے، مگر وہ اس عمل کی وجہ سے دائرۂ اسلام سے خارج نہیں ہوتا، اس لئے ایسے شخص کی نمازِ جنازہ میں شرکت کرنا جائز ہے، جبکہ ایسی عورت کی اولاد اسکے سابقہ شوہر سے ثابت النسب ہو گی،اور اسکی شرعی وارث بھی ہو گی۔
وفي الشامية تحت (قوله ثلاثة متفرقة )وكذا بكلمة واحدة بالأولى، وعن الإمامية لا يقع بلفظ الثلاث ولا في حالة الحيض لأنه بدعة محرمة وعن ابن عباس يقع به واحدة، وبه قال ابن إسحاق وطاوس وعكرمة لما في صحیح مسلم أن ابن عباس قال: كان الطلاق على عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم - وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة، فقال عمر: إن الناس قد استعجلوا في أمر كان لهم فيه أناة، فلو أمضيناه عليہم فأمضاه عليہم وذهب جمهور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث ( ج ۳ ص ٢٣٢)-
وفي بدائع الصنائع: فالدليل على فرضيتها ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال صلوا على كل بر وفاجر وروي عنه صلى الله عليه وسلم أنه قال للمسلم على المسلم ست حقوق وذكر من جملتها أنه يصلي على جنازته (إلى قوله) ولا يصلى على البغاة وقطاع الطريق عندنا ( ج ۱ ص (۳۱).
وفي الهندية ولو طلقها ثلاثا ثم تزوجها قبل أن تنكح زوجا غيره فجاءت منه بولد ولا يعلمان بفساد النكاح فالنسب ثابت، وإن كانا يعلمان بفساد النكاح يثبت النسب عند ابی حنیفة رحمہ اللہ تعالی (1/54)۔